جس میں 7 صدیوں کے راز دفن ہیں۔



کُچھ زمینوں کے بخت میں گورستان بننا لکھ دیا جاتا ہے اور کُچھ گورستانوں کے نصیبوں میں طویل عُمری اور داستانوں کو دفن کرنے کا دُکھ تحریر کردیا جاتا ہے۔ مَکلی اُن چند قبرستانوں میں سے ایک ہے جس کی اپنی الگ پہچان ہے اور یہ دوسرے قبرستانوں سے الگ اس لیے ہے کہ دُنیا میں ’ننگر ٹھٹہ‘ اور کہیں نہیں ہے، اس لیے ’مکلی‘ بھی کہیں اور نہیں ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔

کچھ کو تو لوگوں نے اُن کے اپنے درباروں میں ہی مار ڈالا۔ چند کو اُن کے اَپنوں نے اِس لیے وقت سے پہلے مار ڈالا کہ اُن کو یہ ڈر تھا کہ اگر یہ نہ مرا تو ہمیں مار ڈالے گا۔ کُچھ جنگوں کے میدانوں میں شہید ہوگئے اور کچھ بے گناہ معصوم لوگوں سے صرف اِس لیے زندگی کا حق چھین لیا گیا کہ بادشاہ سلامت کا کہنا نہیں مانا اِس لیے ’ناپسنددیدہ‘ ٹھہرے اور زنداں میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرگئے یا پھر ماردیے گئے۔

20 میل کے پہاڑی سلسلے میں پھیلا مکلی کا یہ پُراِسرار قبرستان ’ساموئی‘ سے شروع ہوتا ہے اور ’پیر پٹھو‘ پر ختم ہوتا ہے۔ جس میں 7 صدیوں کے راز دفن ہیں۔ نہ جانے کتنی لوک داستانوں کا شور ہے جو اِس شہرِ خموشاں میں دفن ہے۔

اگر مکلی سے ور غلام اللہ والے راستے پر شمال کی طرف چلے جائیں تو 10 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد مغرب کی طرف ایک اینٹوں کا ڈھیر سا نظر آئے گا۔ پھر روڈ سے مشرق کی طرف ایک پتھریلا ٹیڑھا میڑھا راستہ نکلتا ہے۔ زقوم کی خاردار جھاڑیاں حد نگاہ تک اگی ہوئی ہیں۔ آپ جیسے دو کلومیٹر کا یہ راستہ طے کر کے پہنچتے ہیں، اور جیسے گاڑی کی آواز بند ہوتی ہے، تو خاموشی کی ایک چادر سی بچھ جاتی ہے۔ آپ سامنے دیکھتے ہیں۔ ایک شاندار قلعہ اور غنیم کے حملے سے بچنے کے لیے ایک مضبوط فصیل کے آثار بکھرے ہوئے ہیں اور ایک وسیع اراضی میں پھیلے ہوئے ہیں۔میری جیپ رات گئے اس کھنڈر نما قلعہ پر پہنچی تو قلعہ کسی بھوت نگرکا منظر پیش کر رہا تھا

اس قلعے نے اپنے پر شاید کبھی قرض نہیں رکھا، اس لیے اس قلعے کی جس نے بھی تھوڑی بہت دیکھ بھال کی، قلعے نے اپنا نام اس ہی کے نام پر تراش دیا۔ کلیان کوٹ’، ‘کلاں کوٹ’، ‘تغلق آباد’، ‘طغرل آباد’، یہ چاروں نام اسی قلعے کے ہیں۔ آخری بار مرزا طغرل بیگ نے اس قلعے کی مرمت کروائی تھی، تو آج تک زیادہ تر لوگ اس کو ‘طغرل آباد’ کے نام سے پہچانتے ہیں۔

1555 میں جب پرتگالیوں نے ٹھٹہ کو لوٹ کر 8 ہزار لوگوں کا خون بہا کر جب اس شہر کو آگ لگادی، تو مجھے یقین ہے، کہ ‘کلاں کوٹ’ کے اس محل سے ٹھٹہ کے آسمان پر جلتے ہوئے شہر کا دھواں ضرور نظر آیا ہوگا۔ مگر جو بادشاہ اپنی عوام اور اپنے شہروں کو اپنا نہیں سمجھتے، تاریخ کی عدالت کا فیصلہ ان کے حق میں کبھی نہیں ہوتا۔ ٹھٹہ آج بھی ہے، پر قلعوں اور محلوں کے نصیبوں میں کبھی نہ ختم ہونے والی ویرانی تحریر کردی گئی ہے۔

1837 میں مغلوں کے آخری نواب صادق علی خان نے ملک ٹھٹہ دہلی کے مغل شہنشاہ محمد شاہ رنگیلے سے ٹھیکے (تجارتی اجارہ) پر لیا تھا۔ پہلے برس تو رقم یہاں وہاں سے لے کر پوری کی، لیکن دوسرے برس خسارے میں رہا۔ اس کے بعد سندھ کلہوڑا سردار میاں نور محمد کے حوالے ہوا، تو حکومت کا مرکز ‘حیدرآباد’ منتقل ہوگیا۔ ٹھٹہ کے بازاروں سے وہ گہماگہمی روٹھ سی گئی، اور ‘طغرل آباد’ کے قلعے پر وقت نے ویرانی اور خاموشی کی چادر تان دی۔

تحریر: ابوبکر شیخ فوٹوز: اس ایم بخاری

     

Facebook Comments
50% LikesVS
50% Dislikes



اپنا تبصرہ بھیجیں