وزیراعظم پاکستان، سیروسیاحت انڈسٹری اور کچھ حفاظتی اقدامات



تحریر محمد اظہر حفیظ

محترم وزیراعظم پاکستان ایک اور نیک کام کرنے جارھے ھیں، یہ سیروسیاحت انڈسٹری کو بھی کھولنے جارھے ھیں، کچھ حفاظتی اقدامات کے ساتھ۔
سیر وسیاحت سے وابستہ تمام لوگ انتہائی کسمپرسی کا شکار ھیں، وہ ھوٹل مالکان ھوں، ریسٹورانٹ مالکان ھوں، ٹور آپریٹرز ھوں، گاڑیوں کے مالکان ھوں، ڈرائیور حضرات ھوں، گائیڈ حضرات ھوں، مقامی پورٹرز ھوں، فوٹوگرافرز ھوں، کک ھوں یا پھر سیاح ھی کیوں نہ ھوں،
ایک سیاح یا جہاں گرد کو گھر پر بند کرنا کسی ظلم سے کم نہیں اس کا تو مناظر دیکھنے کا نشہ ھی ٹوٹنا شروع ھوجاتا ھے، وہ یا تو خاموش ھوجاتا ھے یا پھر بات بات پر چیخنا چلانا شروع ھوجاتا ھے، مجھے یاد ھے زندگی میں جب بھی کچھ عرصہ سیر و سیاحت کیلئے نہ نکلے تو ھماری بد مزاجی کو دیکھتے ھوئے گھر والوں نے ھی درخواست کر ڈالی کہیں گھوم پھر آئیں مزاج اچھا جوجائے گا، سیر و سیاحت سے وابستہ لوگوں کے خاندان یہ بات اچھی طرح سمجھتے ھیں باقیوں کو سمجھانا ممکن نہیں۔
مجھے سیر سیاحت کو کھولنا تو سمجھ آرھا ھے پر حفاظتی اقدامات کی آواز سے اندازہ ھو رھا ھے کہ یہ اس کو کھولنا ھی نہیں چاھتے۔
ماسک پہن کر اسلام آباد میں گھومنا پھرنا تو شاید آسان ھو لیکن پہاڑی علاقوں میں ایسا ممکن نہیں، ورنہ اڑنگ کیل نیلم ویلی آزاد کشمیر، فیری میڈوز، دیوسائی، نانگا پربت بیس کیمپ یا پھر جھیلوں پر جانے والے دوست ھی بتا سکتے ھیں کہ ماسک پہن کر جانا کیا ایسا ممکن ھے ، سوشل فاصلے پر عمل درآمد سفری سہولیات اور رھائشی سہولیات کو کئی گنا مہنگا کر دے گا، اگر ایک ھائی ایس گاڑی میں پہلے بارہ لوگ سفر کرتے تھے اب چار سے چھ لوگ سفر کریں گے پہلے جیپ میں پانچ لوگ بیٹھتے تھے اب تین لوگ بیٹھیں گے پہلے تین سے پانچ لوگ کمروں میں ٹھہرتے تھے اب ایک یا دو ٹھہریں گے تو اخراجات کا تخمینہ کہاں تک جائے گا۔
ان معاملات کو ذھن میں رکھتے ھوئے گورنمنٹ سیروسیاحت کے سیکٹر کو سبسڈی دے تاکہ عام سیاح اور اس کو خدمات دینے والے متاثر نہ ھوں۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی اس سلسلے میں بہت خوش آئند بات ھے۔ اس کا ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے کہ بحران کا شکار سیاحتی انڈسٹری کی مدد کی جاسکے نہ کہ اس کو مزید مسائل کا شکار کردیا جائے،
گورنمنٹ آف پاکستان ھر سال سیروسیاحت سے کروڑوں روپے کماتی ھے ۔ اس سال اگر اس انڈسٹری کو سپورٹ کیا جائے تو بہت قوی امید ھے یہ دوبارہ اپنے پاوں پر کھڑی ھوجائے گی۔ حفاظتی اقدامات کی مد میں جو اضافی اخراجات متوقع ھیں اس کا وزن سیاح اور اس کو خدمات دینے والوں پر پڑنے کی بجائے، گورنمنٹ اس کی مدد کرے۔ اگر اس سال وہ اخراجات سیاح پر پڑے تو اگلے کئی سال تک سیاح کو راضی کرنے اور واپس لانے پر لگ جائیں گے کیونکہ ھر علاقے میں سیر کا ایک بجٹ مخصوص ھے اگر اخراجات اس سے بڑھتے ھیں تو سیاح کیلئے مشکل ھوگا کہ ھرسال وہ ان اضافی اخرجات کو برداشت کرسکے۔ وہ اس دفعہ کا ڈرا ھوا آئندہ بھی ان علاقوں کا رخ کرنے سے ڈر جائے گا۔
دوسری درخواست ھے جہاں سے ان علاقوں کے راستے شروع ھوتے ھیں وھیں پر بخار چیک کرنے اور دوسری طبی امداد کے سٹیشن قائم کئے جائیں نہ کہ ھنزہ، گلگت، سکردو، نیلم، لیپہ، سوات، مری وغیرہ پہنچنے پر ٹیسٹ کرکے واپس بھیجا جائے۔ ان علاقوں میں موجود ھسپتالوں کو بھی مکمل طور پر تیار کیا جائے کیوں کہ نئے مریضوں کے آنے کے امکانات ھیں۔ یہ مشکل ھوگا کہ ان کو وھاں سے اسلام آباد، راولپنڈی، یا پنجاب میں شفٹ کیا جائے اس کے اخراجات بھی ممکن ھے ایک سیاح کے پاس نہ ھوں، بہت کچھ سوچنا ھوگا، ریاست کو ماں کا کردار ادا کرنا ھوگا، ورنہ باقی شعبوں کی طرح ھم سیاحت کی انڈسٹری کو بھی بند کر بیٹھیں گے ۔
پی سی آر ایک بلڈ ٹیسٹ ھے ڈائیگنوسٹک سنٹرز کے دوست کہتے ھیں یہ نسبتا ایک سستا ٹیسٹ ھے دو دن کے وقفے سے ٹیسٹ کروانے سے کرونا وائرس کی تصدیق ھوجاتی ھے نہ کہ کرونا کا مہنگا ٹیسٹ جو کہ دس دن کے بعد ھی مثبت آتا ھے اگر پی سی آر دو دفعہ کروا کر رپورٹس ساتھ رکھ لی جائیں تو سفرمیں کافی سہولت ھوگی۔ کرونا وائرس ایک حقیقت ھے اور اس سے انکار ممکن نہیں، اس کو تسلیم کیجئے اور احتیاط کیجئے۔
گورنمنٹ خود فیصلے کرنے کی بجائے ان فیصلوں میں ٹور آپریٹرز، مقامی لوگوں اور سیاحوں کو بھی شامل کریں تو کافی آسانی ھوگی۔ اور ھمیشہ کی طرح مقامی لوگ سیاحوں کو ویلکم کریں گے اور انڈسٹری بحران سے نکل آئے گی۔ انشاءاللہ
سیروسیاحت ایک زندگی ھے پر اس کیلئے زندہ رھنا بھی ضروری ھے،
سنا ھے روحیں بھی سفر کرتی ھیں ھر جگہ موجود ھوتی ھیں پر یہ نہیں پتہ وہ روح آپکی ھوگی یا میری۔

Facebook Comments
50% LikesVS
50% Dislikes