کورونا پر قابو پانے کیلئے لاہور کو سیل کرنے کا فیصلہ

لاہور: پنجاب میں کوروناپر قابو پانے کیلئے صوبائی دارلحکومت لاہور کو سیل کرنے کا فیصلہ کر لیاگیا، اگلے دو یاتین روز میں با ضابطہ طور پر احکامات جاری ہوں گے۔
جی این این کے مطابق کورونا وائر س پر قابو پانے کے لیے پنجاب حکومت کی پالیسی سامنے آگئی جس کے تحت صوبائی دارلحکومت لاہور کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے کورونا ریڈ زونز کے ایریاز کی نشاندہی کی جائے گی۔
جس کے بعد شہر کو مختلف زونز میں تقسیم کر کے سیل کیا جائے گا، جبکہ شہر کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے جا ئیں گے۔
ذرائع کے مطابق لاہور کو ماڈل کے طور پر سامنے لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ورکنگ گروپ کی سفارشات کو نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اجلاس میں حتمی منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا جبکہ اگلے دو یاتین روز میں با ضابطہ طور پر شہر کو سیل کرنے کے احکامات جاری کر دئیے جائیں گے۔

جبکہ لاک ڈاؤن میں نرمی اور ایس او پیز پر عمل نہ ہونے کے اثرات ملک میں اب واضح طور پر محسوس کیے جانے لگے ہیں، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی استعداد کو بتدریج بڑھایا جارہا ہے۔ 24 گھنٹوں کے دوران 26 ہزار 573 ٹیسٹ کیے گئے جب کہ مجموعی طور پر 7 لاکھ 80 ہزار 825 ٹیسٹ لیے جا چکے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے ریکارڈ 5 ہزار 834 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 23 ہزار 539 ہوگئی۔
پنجاب میں کورونا کے سب سے زیادہ مریض ہیں جہاں اب تک 45 ہزار 463 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔ سندھ میں 46 ہزار 828، خیبرپختونخوا میں 15 ہزار 787، بلوچستان میں 7 ہزار 673، اسلام آباد میں 6 ہزار 236، آزاد کشمیر میں 534 اور گلگت بلتستان میں ایک ہزار 18 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ملک بھر میں اب تک کورونا وائرس سے متاثرہ 38 ہزار 547 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔

پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید سو سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد اموات کا مجموعہ 2 ہزار 410 ہوگیا۔ کورونا وائرس کے باعث سب سے زیادہ اموات بھی پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 841 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سندھ میں 738، خیبر پختونخوا میں 619، اسلام آباد میں 62، گلگت بلتستان میں 14، بلوچستان میں 73 اور آزاد کشمیر میں 9 افراد کورونا وائرس سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔

شہباز شریف بھی کورونا کا شکار

مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر شاہد خاقان عباسی، ترجمان مریم اورنگزیب اور رہنما احسن اقبال کے بعد پارٹی صدر شہباز شریف بھی کورونا کا شکار ہوگئے ہیں ۔

کورونا وائرس اور احتیاطی تدابیر:

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اور وہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

Facebook Comments
50% LikesVS
50% Dislikes