ہمارے فوجی اتنی بے دردی سے کیوں‌مارے گئے کون ذمہ دار ہے ، بھارتی فوجی کی بیوٰ ی پھٹ پڑی

بھارتی چیف آف ڈیفنس سروسز جنرل بیپن راوت کے نام فوجی افسر کی اہلیہ کا کھلا خط، ہمارے فوجی اتنی بے دردی سے کیوں مار دیئے گئے؟ کون ذمہ دار ہے؟
لداخ کی وادی گلوان میں چینی فوج کے ہاتھوں بھارتی فوج کی ہزیمت اورذلت آمیز شکست کے بعد ایک بھارتی فوجی افسر کی اہلیہ امبرین زیدی کی طرف سے بھارت کی تینوں مسلح افواج کے سربراہ چیف آف ڈیفنس سروسز، جنرل بیپن راوت کے نام کھلا خط لکھا گیا ہے، امبرین زیدی حاضر سروس فوجی جوانوں اور ہلاک ہونےوالے فوجیوں کے لواحقین کی فلاح و بہبود کے لیے سر گرم رہتی ہیں، وہ ایک معروف بلاگر اور صحافی بھی ہیں جو یونیسف جیسے بین الاقوامی اداروں سے بھی منسلک رہی ہیں، انڈین چیف آف ڈیفنس سروسز کے نام ان کا کھلا خط بھارت کے بڑے انگریزی روزنامے ٹائمز آف انڈیا میں نمایاں طور پر شائع کیا گیا گیا، ذیل میں اس خط کا مکمل ترجمہ دیا جا رہا ہے۔۔۔۔

چیف آف ڈیفنس سروسز کے نام کھلا خط

ہم اپنی مسلح ا فواج کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کے اہل خانہ جو اپنی فوجی جوانوں اور افواج کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں، جی نہیں،ہم بالکل خوفزدہ نہیں ہیں، لیکن ہاں ہم اپنے جوانوں کی سلامتی اور حفاظت کے لیے دعا گو ضرور ہیں، لیکن ہم یہ ضرور جاننا چاہتے ہیں کہ گلوان ویلی میں کیا ہوا؟ مجھے اندازہ ہے کہ کہ دفاعی نوعیت کے معاملات ان پر فیصلہ سازی اور اس کے نتائج کھلے عام ظاہر نہیں کیے جاتے، لیکن تیز ترین سوشل میڈیا کے اس دور میں ، متضاد بیانات اورہر طرف نظر آنے والے خوفناک تصویریں، ایسے میں ہم کہاں جائیں، کس پر اعتبار کریں ؟ اگر چین کی طرف سے کوئی جارحیت بھی نہیں ہوئی توہمارا اتنا جانی نقصان کیوں ہو گیا؟ جن میں ایک کمانڈنگ آفیسر بھی تھا، صرف یہی نہیں کہ ہمارے فوجی اتنی بے دردی سے مار دیئے گئےبلکہ ان کی لاشوں کو مسخ کر دیا گیا، کیوں ایسا کیوں ہوا؟ کیا وہ وہ دشمن کے علاقے میں اپنے طور پر داخل ہو گئے تھے؟ جیسا کی چینی حکام دعویٰ کر رہے ہیں، اور چینی فوج نے اپنے دفاع میں کارروائی کر ڈالی،

دنیا کا آٹھواں براعظم نظروں کے سامنے ہونے کے باوجود اوجھل رہا،

کیوں ہر روز ایک نئی داستان گھڑی جا رہی ہے؟کیا ہم کبھی اس معاملے کی حقیقت جان سکیں گے؟ کیا ہمارے فوجی اپنے ہی بچھائے ہوئے کسی جال میں پھنس گئے، ہمارے فوجی کوئی ایسا تر نوالہ تو نہیں تھے کہ اب انہیں سفارتی بالا دستی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے،اس معاملے کی ذمہ داری کسی بھی طرح چینی حکام سے زیادہ ہماری رائے میں آپ پر عائد ہوتی ہے، آپ کی پالیسی، آپ کی ہدایات اور سب سے بڑھ کر یہ سوتیلے پن کا سلوک جو روا رکھا جا رہا ہے یہ ہمارے لیے زیادہ تکلیف اورپریشانی کا باعث ہے، جب چیف آف ڈیفنس سروسز کا منصب تخلیق کیا گیا تھا تو بتایا گیا تھا کہ بھارت کی فوج، نیوی اور ائر فورس تینوں ایک چھتری تلے ہوں گی تو بھارت کا دفاع زیادہ بہتر اور مرباط انداز میں ممکن ہو گا، لیکن جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب تو اس کے بالکل بر عکس ہے، ہم نہ صرف اندرونی بلکہ بیرونی محاذوں پر بھی شدید دباؤ میں آ چکے ہیں، مسلح افواج کا مورال بری طرح گر چکا ہے، اور اس کی وجہ آپ کی بڑھتی ہوئے مداخلت ہے،لداخ کے واقعے نے ثابت کردیا کہ بھارتی فوج کے ہیڈکوارٹرز میں آپ کی بڑہتی ہوئی مداخلت نے سب کچھ چوپٹ کر دیا ہے،

فوجی ہیڈکوارٹرز میں ہونے والی سرگوشیاں اب چیخوں میں بدل چکی ہیں کہ اپنے فوجی جوانوں کو مستقبل میں ایسی کسی بھی بربادی سے بچا لو، ہم نے اپنے جوان انتہائی غیر فوجی انداز میں ضائع کر دیئے، اور اب یہ بات ایک بعد بعد دوسری غلط بیانی کے پیچھے چھپائی جا رہی ہے، ان فوجیوں کا خون جس طرح موجودہ فیصلہ سازسیاسی قیادت کے ہاتھوں پر ہے اسی طرح آپ کے ہاتھوں پرکچھ زیادہ ہی ہے،آپ کو تحفظ دینے والا بھی یقینی طور پر وہی ہے جو آپ کے آبائی گاؤں سے تعلق رکھتا ہے اور یہی احساس آپ کو بہت راحت بخشتا ہے کہ آپ کی نوکری پکی ہے، ہر کسی کو تو یہ مزے حاصل نہیں ہیں اور نہ ہی کسی کے اقتدار کی راہداریوں میںاتنے رابطے اور تعلقات ہیں جو آپ کے ہیں، آپ کو اقتدار میں ایوانوں میں خاندان کا فرد سمجھا جاتا ہے، ذرا اپنے سینے پر ہاتھ رکھ رک بتایئے کہ کیا آپ نے ان ذمہ داریوں سے انصاف کر پائےہیں جو آپ کو سونپی گئی تھیں؟ کیا آپ اپنے فوجی بھائیوںکے لیے کھڑے ہوئے ہیں جیسا کہ ان کا حق تھا؟ کیا آپ نے سیاست دانوں کو موقع نہیں دے دیا کہ وہ آپ کو قربانی کا بکر ابنا کر ایسے فیصلے کر گزریں جن کا کہ ادارے کو نقصان ہو ا؟ کیا آپ لداخ میں ہمارے فوجیوں کی ناکامی کے ذمہ دار نہیں ہیں؟

 خبردار ! سینی ٹائزر صحت کے لیے مضر بھی ہوسکتے ہیں، مزید پڑھیں 

مجھے یقین ہے کہ آپ کو میرے ان سب سوالوں کا جواب معلوم ہے، آپ کے بارے میں تصور تو یہی ہے کہ آپ مضبوط قدموں کے ساتھ منفی درجہ حرارت کے اندراپنے جوانوں کے کندہے سے کندہا ملا کر لڑتے ہوئے اپنی جان قربان کر دیں گے، تو پھر آپ جائیے اور یہ کر کے دکھایئے، ہم آپ کے شانہ بشانہ ہوں گے اور اگر نہیں تو پھر اخلاقی بنیادوں پر استعفیٰ دینے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ہم تو اپنے جوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور جب وہ محاذ پر جائیں تو ہم آنکھ بھی نہیں جھپکیں گے، لیکن آپ سے یہ درخواست ضرور کریں گے کہ ہمارے فوجیوں کے ساتھ دہوکہ نہ ہو، انہیں غیر مسلح ہو کر جانے اور اسلحہ نہ ستعمال کرنے کا نہ کہا جائے، ہم کبھی نہیں چاہیں گے انہیں اسی طرح کاٹ دیا جائے جس طرح کہ چین کی طرف سے کیا گیا،کبھی نہیں، لداخ کو گیم چینجر بنا دو ۔۔۔۔۔۔

Facebook Comments
50% LikesVS
50% Dislikes