غیر مسلم اقلیتوں کی نئی عبادت گاہیں: اسلام آباد میں مندر کا قیام

تحریر: محمد ابوبکر صدیق
لیکچرر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد

بُت شکن اٹھ گئے، باقی جو رہے بُت گر ہیں
تھا براہیم پدر اور پِسر آزر ہیں

پاکستان کے جمہوری قانون کے تحت جو اقلیتی کمیشن بنایا گیا اس کی رو سے اقلیتوں کو حاصل حقوق میں نئی عبادت گاہیں بنانے کے حوالے سے ان پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی جس کا دوسرا مطلب شاید اجازت ہی ہے۔جیسے پاکستان کے دیگر شہروں میں چرچ بنتے ہیں۔ اسلام آباد میں چونکہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے اس لئے شاید زیادہ ابھر کر سامنے آ یا ہے۔ لیکن شریعت کا نقطہ نظر اس حوالے سے کچھ مختلف ہے۔ اسلام خدائے واحد کی بندگی کی دعوت دیتا ہے لیکن دوسرے مذاہب کے لوگوں پر اپنے عقائد بدلنے اور اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالتا، نہ کسی جبر و اکراہ سے کام لیتا ہے۔ دعوتِ حق اور جبر و اکراہ بالکل الگ حقیقتیں ہیں۔

لاإِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ.
’’دین میں کوئی زبردستی نہیں بے شک ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہوچکی ہے۔‘‘

مختلف ادوار میں گرجا گھر اور کلیسے اسلامی حکومت میں موجود رہے ہیں۔ کبھی بھی انہیں ادنیٰ گزند تک نہیں پہنچائی گئی بلکہ حکومت نے ان کی حفاظت کی ہے اور غیر مسلموں کو ان میں عبادات کی انجام دہی کے لیے سہولیات فراہم کی ہیں۔اقلیتیں اپنی قدیم عبادت گاہوں کے اندر رہ کر اپنے تمام مذہبی اُمور بجا لا سکتے ہیں، حکومتِ اسلامیہ اس میں دخل دینے کی مجاز نہیں ہے۔ کیا اسلامی ملک میں غیر مسلم اپنی نئی عبادت گاہیں تعمیر کر سکتے ہیں؟ فقہائے اسلام اسلامی ملک کے شہروں کو تین اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔

وہ شہر جنہیں مسلمانوں نے نئے سرے سے آباد کیا ہو

فقہائے اسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ ایسے شہروں میں غیرم مسلم ذمی اپنی نئی عبادت گاہیں تعمیر نہیں کرسکتے۔ اور اس پر حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ

أيما مصر مصرته العرب فليس للعجم ان يبنوا فيه بناء بيعة
ولا يضربوا فيه ناقوسا ولا يشربوا فيه خمراً ولا يتخذوا فيه خنزيراً

’’جن شہروں کو مسلمانوں نے آباد کیا ہے ان میں ذمیوں کو یہ حق نہیں ہے کہ نئی عبادت گاہیں اور کنائس تعمیر کریں، یا ناقوس بجائیں، شرابیں پئیں اور سور پالیں۔
(ابن ابی شیبیۃ، المصنف، 6 : 467، رقم : 32982)

اول: وہ شہر جنہیں مسلمانوں نے بزور شمشیر فتح کیا ہو

ایسے شہروں میں اقلیتیں نئی عبادت گاہیں تعمیر نہیں کرسکتے ۔ ایسے شہروں میں غیر مسلموں کی پرانی عبادت گاہوں سے متعلق امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں ان کی پہلے سے موجود عبادت گاہوں کو منہدم کردیا جائے گا۔ جبکہ احناف کہتے ہیں منہدم نہ کیا اور نہ ہی اقلیتوں کو ان میں عبادت کی اجازت دی جائے بلکہ مسلمان انہیں اپنے دیگر کاموں میں استعمال کریں۔
(البناية في شرح الهداية – ج 6 ص 682، دار الفکر 1990)

مزید پڑھیں  اذان، مؤذن اور لاؤڈ سپیکر

دوم: وہ شہر جنہیں مسلمانوں نے صلح کے معاہدے سے حاصل کیا ہو
ایسے شہروں میں ان کی پرانی عبادت گاہیں تو موجود رہیں گیں۔ اور اگر وہ پرانی ہوجائیں تو انہیں ان کی تجدید کی اجازت ہوگی۔ لیکن ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی جازت نہین ہوگی۔ لیکن نئی عبادت گاہوں کی تعمیر کا معاملہ غیر مسلموں سے طے شدہ شرائط پر ہوگا۔ اگر اس شرط پر صلح ہوئی کہ غیر مسلم نئی عبادت گاہیں تعمیر کریں گے تو انہیں اس بات کی اجازت ہوگی۔ جیسے* * قاضی امام ابویوسف ؒ نے اپنی کتاب الخراج میں ذکر کیا ہے کہ

فِي صُلْحِ أَبِي عُبَيْدَةَ، مَعَ أَهْلِ الشَّامِ أَنَّهُ صَالَحَهُمْ، وَاشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ حِينَ دَخَلَهَا عَلَى أَنْ يَتْرُكَ كَنَائِسَهُمْ، وَبِيَعَهُمْ عَلَى أَنْ لَا يُحْدِثُوا بِنَاءَ بِيعَةٍ، وَلَا كَنِيسَةٍ،

ضرت ابو عبیدہ ؓ نے ملک شام کی فتح کے وقت اہل شام کے ساتھ اس شرط پر صلح کی تھی کہ مسلمان ملک شام میں جب داخل ہونگے تو ان کی عباد گاہوں کو چھوڑ دیں گے لیکن غیر مسلم نئی عبادت گاہوں کی تعمیر نہیں کریں گے۔  (رد المحتار على الدر المختار، 4: 213, دار الفكر-بيروت، 1992)

اور اگر اس کے برخلاف شرط پر صلح ہوئی تو انہیں جازت نہیں ہوگی۔ صاحب عنایہ کہتے ہیں مسلمانوں میں راجح یہی ہے کہ وہ اسی شرط پر صلح کریں کہ نئی عبادت گاہیں تعمیر نہیں ہونگیں جیسے حضرت عمر فاروق ؓ نے کیا تھا۔  (البناية في شرح الهداية – ج 6 ص 682، دار الفکر1990)

*اس ساری بحث کے بعد اسلام آباد کا معاملہ پہلی صورت میں آتا ہے اس شہر کو مسلمانوں نے ہی آباد کیا۔ اس لئے یہاں غیر مسلموں کی نئی عبادت گاہوں کی تعمیر کا سرے سے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

امام محمد بن حسن شیبانی اپنی مشہور کتاب السير الكبير میں لکھتے ہیں:

“وتمكينهم من إحداث ذلك أي: الكنائس في موضع صار مُعدًّا لإقامة أعلام الإسلام فيه، كتمكين المسلم من الثَّبات على الشِّرك بعد الرِّدَّة، وذلك لا يجوز بحال.”

’’ذمیوں کو ایسی جگہ نئے کنائس بنانے کی اجازت دینا جہاں اسلامی شعائر کی اقامت شروع ہوچکی ہو، ایسے ہی ہے جیسا کہ مسلمان کو ارتداد کے بعد شرک پر برقرار رہنے کی اجازت دی جائے۔ اور ایسا کرنا کسی صورت جائز نہیں۔

لَا یَجُوزُ أَنْ یُحْدِثَ بِیعَةً، وَلَا کَنِیسَةً وَلَا صَوْمَعَةً، وَلَا بَیْتَ نَارٍ، وَلَا مَقْبَرَةً وَلَا صَنَمًا حَاوِیّ فِی دَارِ الِْسْلَامِ وَلَوْ قَرْیَةً

. ”جائز نہیں ہے کہ کوئی کلیسا یا کنیسہ یا راہب کے رہنے کی جگہ یا آتش کدہ یا مقبرہ بنایا جائے، نہ ہی دارالاسلام میں کوئی بت باقی رکھا جائے گا، اگرچہ وہ بستی ہی کیوں نہ ہو۔
” (کنز الدّقائق، ص 385)

علامہ شامی فرماتے ہیں :

“لا يجوز إحداث كنيسة في القرى، ومَن أفتَى بالجواز، فهو مُخطئ، ويُحْجَر عليه”

’’کسی بستی میں کوئی نیا کنیسہ بنانا ناجائز ہے۔ جو جواز کا فتوی دے، وہ خطا کار ہے، اس کو روکا جائے گا۔
‘‘(رد المحتار على الدُّر المختار ، ج 6، ص 192)

لیکن مملکت خداد پاکستان کے جمہوری قانون نے یہ کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ اقتدار پر براجمان لوگ یہ بھی یاد رکھیں کہ ریاست مدینہ کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے قوانین شریعت سے متصادم نہ ہوں۔ شاید ابلیسی جمہوریت نے جیسے دنیوی امور میں جکڑ رکھا ہے شاید اخروی امور میں بھی ہم لاچار ہوچکے ہیں۔ چاہتے ہوئے بھی اسلام نافذ نہیں کر سکتے۔۔ ابھی عربوں کی جانب سے مندر کے قیام پر دل گیر تھے کہ خود اپنے گھر میں مندر کے گھنٹے بجانے کی تیاری شروع ہوگئی ۔ ایران کے ہمدرد احباب جو سوشل میڈیا پر عربوں کی جانب سے مندر بنانے کے اقدام کو قیامت کی نشانی بتلا رہے تھے آج وہی احباب اسلام آباد کے مندر پر خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں۔ پتہ نہیں وہ عرب دشمنی تھی یا یہ ہندو انہ دوستی ہے۔ تاہم اسلام کا رویہ کہیں کھو کر رہ گیا ہے۔**

جو احباب یہ کہتے ہیں

اگر ہم اقلیتوں کو اجازت نہیں دیں گے تو وہ بھی اپنے ممالک میں مسلمانوں کو مساجد بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

یہ بات بھی خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ یاد رکھیں اس وقت سوائے پاکستان اور اسرائیل کے کوئی بھی ملک مذہبی بنیاد پر نہیں بنا۔ باقی سب سیکولر ممالک ہیں۔سیکولر ممالک صرف مسلمانوں کو ہی اجازت نہیں دیتے بلکہ وہ سب کو یکساں دیتے ہیں۔ اور یہ برابری والا نعرہ بھی فریب ہے۔ سب جانتے ہیں کہ مسلمانوں کو پورے یورپ و مغرب میں کس قدر برابری کے حقوق میسر ہیں۔ نیز سیکولر ممالک مسلم کمیونٹی کو نئی مساجد کی اجازت ہی نہیں دیتے وہاں صرف اسلامک سینٹرز کی محدود اجازت ہے۔ جن ممالک میں مساجد ہیں وہ قدیمی ہیں جہاں مسلم آبادی پہلے سے موجود تھی۔شرح آبادی کے لحاظ سے بھی مندر اور چرچز کی تعداد پاکستان میں بہت زیادہ ہے۔ ان کی اتنی آبادی نہیں ہے جتنا مندر ہین۔ الیکشن کمیشن ریکارڈ کے مطابق۔۔۔اسلام آباد میں صرف 178 ہندو ووٹرز رہائش پذیر ہیں جبکہ مندر کے لئیے 20,000 مربع فٹ زمین اور 100 ملین روپے مختص کئیے گئے. یہ ہے وہ جم غفیر آبادی جس کے لئے اتنا خرچ کیا جارہا ہے۔ درپردہ قوتیں کے مقاصد کچھ اور ہیں۔ اقلیتی حقوق کا صرف نام استعمال کیا جارہا ہے۔جبکہ غیر مسلم ممالک میں مسلم آبادی زیادہ ہے جبکہ مساجد نہ ہونے کے برابر ہیں۔اسرائیل مذہبی ملک ہے اب وہاں فلسطین کا مسلمان کس قدر آزاد ہے ؟ آپ جانتے ہیں۔ وہاں مساجد کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے سب جانتے ہیں۔انڈیا سیکولر ہونے کے باوجود مساجد کو شہید کر رہا ہے۔ مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ کیا وہ پاکستان میں مندر تباہ کرنے اور ہندوں کے قتل عام کے جواب میں ایسا کررہا ہے؟؟؟ پاکستان کا کون سا مندر ہے جسے ہم تباہ کیا ہو؟؟ یا کون سی اقلیت ہے جسے عبادات سے منع کیا گیا ہو۔ یا کون سا قتل عام کیا ہے ؟؟؟ ہمارے ہاں اقلیتیں زیادہ محفوظ ہیں۔ اکادکا واقعات ہو بھی جائیں تو ہمارا مسلم معاشرہ مجموعی طور اس کی مذمت کرتا ہے۔اس لئے لبرلز احباب کا اس فضول بات کی جگالی کرنا بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے کہ غیر مسلم بھی ایسا کریں۔ ارے بھائی وہ بہت پہلے سے ہی ایسا کر رہے ہیں۔

ہاتھ بے زور ہیں، الحاد سے دل خوگر ہیں
اُمّتی باعثِ رُسوائیِ پیغمبرؐ ہیں
بُت شکن اٹھ گئے، باقی جو رہے بُت گر ہیں
تھا براہیم پدر اور پِسر آزر ہیں
بادہ آشام نئے، بادہ نیا، خُم بھی نئے
حَرمِ کعبہ نیا، بُت بھی نئے، تُم بھی نئے

انا للہ وانا الیہ راجعون

مزید پڑھیں  : مزید پڑھیں: ارتغرل غازی کیوں بنا؟ رجب طیب اردوان نےکس ڈرامے کو تاریخ پر حملہ قرار دیا

Facebook Comments
50% LikesVS
50% Dislikes