کیاوزیرتعلیم پنجاب مرادراس اور وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اس شدید گرم موسم میں کسی سرکاری سکول یا کالج میں ایک دن گزار سکتے ہیں؟



کیاوزیرتعلیم پنجاب مرادراس اور وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اس شدید گرم موسم میں کسی سرکاری سکول یا کالج میں ایک دن گزار سکتے ہیں؟

مولانا مودودی کا مشہور جملہ ہے ، غلطیاں بانجھ نہیں ہوتیں۔ درست بات ہے، ایک غلطی دوسری کو جنم دیتی ہے اور اس سے تیسری غلطی پھوٹتی ہے۔ اسی لئے سیانوں نے یہ جملہ تخلیق کیا کہ غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہیے۔ بھئی ایک غلطی پہلے سے بچے دربچے پیدا کئے جارہی ہے، اگر اسی غلطی کو دہرائیں گے تو پھر ہر طرف چھوٹی بڑی غلطیاں ہی نظر آئیں گی۔
خیر کسی مورخ نے جو لگتا ہے عسکریات کے لئے کچھ نرم گوشہ رکھتا تھا ،اس نے پاکستانی تاریخ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ڈکٹیٹر اپنے سے پہلے والے ڈکٹیٹر کی غلطی نہیں دہراتے۔ دلیل کے طور پر حوالہ دیا کہ ایوب خان کی اولاد نے انہیںدوران اقتدار شرمندہ اور بدنام کرایا تو جنرل ضیا الحق نے اپنی اولاد کو منظرنامے سے بالکل ہی غائب رکھا، موت کے وقت بہت سوں کو یہ بھی علم نہیں تھا کہ مرحوم ڈکٹیٹر کے کتنے بچے ہیں۔
مورخ کی دلیل کا براہ راست جواب تو نہیں دیا، مگر کسی ستم ظریف نے فقرہ کہا، ’’ہاں وہ پرانی غلطیاں نہیں کرتے، سوچ سمجھ کر نئی غلطیوں کا مرتکب ہوتے ہیں۔ ‘‘فقرہ مزے کا ہے، دلیل اس کی کیا دینی، سب واضح ہے، ہماری تاریخ سامنے ہی ہے۔ عمران خان ڈکٹیٹر نہیں، سیاستدان ہیں بلکہ بیس پچیس سالہ سیاسی جدوجہد کی گٹھڑی کاندھے پر دھرے گھومتے ہیں۔ڈکٹیٹروں اور سیاستدانوں کے بارے میں ان کے خیالات ملے جلے ہیں۔ ماضی کا ایک ڈکٹیٹر ایوب خان انہیں بے حد پسند ہے، ایک اور ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے سخت مخالف رہے ہیں۔ جنرل ضیا کے حوالے سے خان صاحب بات کرنے سے گریزاں رہے ہیں، کہیں کچھ پڑھا، سنا نہیں ۔ ایک بات البتہ انہوں نے ہمارے ڈکٹیٹروں سے مستعار لی ہے کہ وہ ہر بار نئی غلطی، نئے بلنڈر کرنے کے حامی ہیں۔ان میں ایک اور خوبی کمال درجے کی ہے۔

نیاانفیکشن کورونا سے صحتیاب ہونے والوں کو کیسے اپاہج بنا رہا ہے

وہ اپنی ٹیم کے ہر ممبر کے بارے میں لگتا ہے تفصیلی معلومات حاصل کرتے ہیں، اس کی شخصیت، سوچ، فکر ، طرزعمل کا تجزیہ ۔ یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ یہ کون سا کام اچھے طریقے سے کر سکے گا۔ اس کے بعد یقینی بناتے ہیں کہ اسے وہ ذمہ داری نہ سونپی جائے۔ ایسا کام کرنے کو دیا جائے جو اس نے کبھی کیا، نہ کر سکتا ہو۔ اس کی مثال کیا دینی، ڈھیر لگا ہے ، ٹیلہ نما ڈھیر۔ وزیراعلیٰ پنجاب سے شروع کریں اور صوبائی ، وفاقی وزرا کو ایک ایک کر کے جانچتے جائیں، جواب مل جائے گا۔
اگلے روز ایک نشست میں چند دوستوں کے ساتھ تھا۔ اتفاق سے سب تحریک انصاف کے حامی تھے، بلکہ نہایت مستقل مزاج قسم کے سپورٹر۔خاکسار کو آپ سابق حامی سمجھ لیں یا دلبرداشتہ مایوس حامی ۔دوران گفتگو موضوع گھومتے گھماتے خان صاحب کی کارکردگی پر آگیا۔ عرض کیا کہ خان صاحب اقتدار میں آنے سے پہلے ہمیشہ اس پر زور دیتے تھے کہ رائٹ پرسن فار دی رائٹ جاب۔ بدقسمتی سے اقتدار کے تین برسوں میں انہوں نے ایک بھی ایسی اچھا تقرر نہیں کیا، جس کو سراہا جا سکے۔ سوال پوچھا کہ ایسی کوئی تقرری ہے تو ضرورمعلومات میں اضافہ کیا جائے۔ ہمارے دوست سوچوںمیں غلطاں رہے مگرتلاش کے باوجود کوئی قابل فخر تقرری نہ ڈھونڈ سکے۔
خان صاحب کی فہرست میں تازہ ترین اضافہ رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ کا تقرر ہے۔ کہاں مفتی منیب الرحمن جن کی علمیت کے باعث ان کے مخالف بھی احترام کریں، کہاں وہ صاحب جن کی اپنے مسلک میں کوئی نہیں سنتا، نہیں مانتا۔ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں علمی اداروں پر قابل صد تحسین تقرر ہوئے تھے۔

بچوں کی پرورش میں غفلت نہ کریں

مقتدرہ قومی زبان پر افتخار عارف، اردو سائنس بورڈ کے لئےناصر عباس نیئر، قومی لغت بورڈ میں عقیل عباس جعفری وغیرہ۔ خان صاحب کے دور میں علمی، ادبی اداروں کے حالات کیا سنورنے ، الٹا اصلاحات کے نام پران کی بندش کا امکان پیدا ہوگیا ہے، جو تقرر ہوئے وہ بھی مذاق بنے ہیں۔ وزیراعظم صاحب کے اسی ’’قابل فخر‘‘ انتخاب میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اورپنجاب کے وزیرتعلیم مراد راس بھی شامل ہیں۔ جناب مراد راس کو ان کے نام کی مناسبت سے جو خطاب سوشل میڈیا صارفین نے دیا ہے، وہ ان سے مخفی نہیں ہوگا۔ شفقت محمود اور پنجاب کے وزیر تعلیم نے بڑے سوچ بچار کے بعد تعلیمی ادارے تو کھول دئیے ہیں، مگر کسی نے یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ اتنی شدید گرمی میں بچے کیسے پڑھیں گے؟
درجہ حرارت بعض شہروں میں چالیس سے زیادہ اور کئی جگہوں پر پنتالیس تک چھو رہا ہے۔جون کے یہ دن سال کے گرم ترین دن شمار ہوتے ہیں، ہمیشہ ان سخت گرم جھلسا دینے والے دنوں سے پہلے ہی سکولوں کی چھٹیاں ہوجاتی ہیں۔ شائد یہ پہلا موقعہ ہے کہ ایسے گرم دنوں میں سکول کھلے ہیں ۔ دو دن ہی گزرے، مگر بچوں کے والدین سخت پریشان ہوگئے ہیں۔ اصولی طور پر تو سکول کھولنے کے اعلان سے پہلے یہ سوچنا چاہیے تھا کہ اس شدید گرمی میں سکول ٹائمنگ کیا ہوں؟

تحریر:محمد عامر خاکوانی

Facebook Comments
50% LikesVS
50% Dislikes