ٹک ٹاک ایک شیطانی فتنہ اور ہمارا معاشرہ



پاکستان کےمعاشرہ سےاسلامی ثقافت محرم اور غیر محرم کے فرق ادب اور احترام کو یقینی تبدیل کیا جا رہا ہے انٹرنیٹ کے پھیلنے سے پہلے آپ اس چیز کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارا ماحول کس طرح ہوتا تھا جو ہمارے دور دراز سے کزن رشتہ دار جب ہمارے گھر آتے تھے ہماری بہنیں مائیں ہماری بیٹیاں ان سے پردہ کرتی تھیں اور اسلامی احکامات پر پورا عمل کرتی تھیں انٹرنیٹ کی اس دنیا سے پہلے غیر محرم کے سامنے بغیر پردے کے جانا ایک بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا.
یہ ساری چیزیں ہیں جن سے یہود اور کفار کو شدید نفرت تھی ہمیشہ کی طرح بزدل دشمن جو کہ ہم سے لڑ نہیں سکتے تباہ نہیں کر سکتے لیکن ہمارے معاشرے پر حملہ کر رہے ہیں ہمارے معاشرے کو برباد کررہاہے،ہر کچھ عرصے کے بعد انٹرنیٹ کے ذریعہ اشیاء پھیلنے کا ایک منصوبہ بناتے ہیں جس کو مختلف ایپس کی شکل دے کر ہماری اخلاقیات کو اس معاشرے سے ختم کرنےکی کوشش کرتے ہیں اور کسی حد تک اس میں کامیاب بھی ہورہے ہیں
آج باپ بیٹی بھائی بہن ماں باپ کا کا احترام تقریبا ختم ہو چکا ہے بلکہ میں یہ کہنا پسند کروں گا کہ نہ ہونے کے برابر ہی ہے اور شہرت کی ہوس نے اتنا اندھا کردیا ہے کہ آجکل کی مائیں بہنیں بیٹیاں پر اپنے نمائش کرتی پھر رہی ہیں آج سٹیٹس کے نام پر جینز اور بے ہودہ کپڑے آچکے ہیں
آج کے اس دور میں کم کپڑے بوائے فرینڈ گرل فرینڈ کا تصور شہرت کا نشہ سٹیٹس سمبل اور فیشن سمجھا جا رہا ہےٹک ٹاک سنیک ویڈیوز اصلاح معاشرہ کی بجائے ہمارے معاشرے کو ہر نئے دن کے ساتھ بگاڑ اور تباہی کی طرف لے کے جا رہا ہے ہمارے علماء کرام حکومتی عہدیدار خاموشی سے اس بے حیائی اور بے شرمی کے سمندر میں ڈوب رہے ہیں.

دکھ تو اس بات کا ہے کہ ٹک ٹاک کی اس لاعلاج بیماری صرف لڑکیوں میں ہی نہیں مقبول ہورہی بلکہ بچے بھی اس کے دیوانے ہو رہے ہیں اور بچیوں کے ساتھ اپنی ویڈیو بنا کر لوگوں میں شیئر کر رہے ہی اور اس شیطانی فریب میں بری طرح پھنس رہے ہیں لمحہ فکریہ ہے کہ والدین سب کچھ جاننے کے باوجود اپنی نسل کو تباہی کے دہانے پر پہنچا رہے ہیں اس ایپ کے منفی پہلو کو دیکھتے ہوئے کئی ممالک نے اس پر پابندی بھی لگا دی ہے یہ ایپ بچوں کے لیے اس لیےبھی خطرناک ثابت ہو رہی ہے کہ بہت سے لوگ بچوں کو ورغلا رہے ہیں وہ اپنی عمر کم دکھا کر نمبر مانگتے ہیں اور چھوٹے بچوں کو ملنے کی کوشش کرتے ہیں بعض رپورٹوں کے مطابق دنیا بھر کے ممالک میں ایسے بہت سے کیسز درج ہوئے ہیں

چھوڑ یورپ کیلئے رقصِ بدن کے خم و پیچ
روح کے رقص میں ہے ضرب کلیم اللّہی
صلہ اُس رقص کا ہے تشنگی کام و دہن
صلہ اِس رقص کا درویشی و شاہنشاہی

ان اشعار کی “ضرب کلیم” میں مختصر تشریع یوں کی گئی ہیں ، اقبال علیہ رحمہ کہتے ہیں،اے مسلم نوجوان! یہ رقصِ بدن (اچھلنا ، کودنا اور ناچ ، مجرا) تیرے لئے مناسب نہیں ہے اس ناچ میں یورپ کی قوموں کو مصروف رہنے دے کیونکہ وہ مادہ پرست ہیں اور رقص بدن کے علاوہ اور کسی قسم کا بھی رقص یورپ کی قوموں کو سمجھ میں نہیں آسکتا ہے. رقص تن تو محض تیرے جسم کو گردش میں لاسکتا ہے لیکن روح کے رقص کا صلہ ایسا عظیم الشان ہے کہ تیرے تصور میں بھی نہیں آسکتا جو شخص روح کو رقص کرنا سکھا دیتا ہے ، فرشتے درویشی (خدا پرستی اور خدا ترسی) کا تاج اس کے سر پر رکھ دیتے ہیں اور رقصِ روح سے تو ساری کائنات کو گردش میں لاسکتا ہے بلکہ اسکی وجہ سے تیرے اندر اس قدر طاقت پیدا ہوجائے گی کہ نئی دنیا پیدا کر سکے گا.

فتویٰ:
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ یوسف بنوری ٹاؤن کراچی میں ایک سوال کیا گیا کہ کیا ٹک ٹاک ایپ کے ساتھ کامیڈی اور ایکشن ویڈیو بنانا جائز ہے؟
اگرچہ ویڈیوز بناتے وقت میوزک نہیں چلاتے ہم صرف موسیقی کے ساتھ چلتے ہیں یا منہ کااستعمال کرتے ہیں اس طرح کی ویڈیوز بنانا جائز ہے یا نہیں؟
کیا ٹک ٹوک ایپ مالکان سے رقم اور تحائف قبول کرنا جائز ہے ؟

جس کا جواب کچھ اس طرح سے ہے کہ ٹک ٹاک کے بارے میں دستیاب معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ ٹک ٹاک کا خطرناک سوشل میڈیا فتنہ ہے جو آج کل عروج پر ہے
اس ایپ کا استعمال کرنا بھی حرام ہے اور شرعی نقطہ نظر سے جائز نہیں ہے
اس میں زندہ انسانوں کی تصاویر اور ویڈیوز پیش کی گئی ہیں جو شریعت کے مطابق حرام ہے ، اس میں وہ خواتین شامل ہیں جو ویڈیوز بناتی اور پھیلاتی ہیں
اس ٹک ٹاک میں غیر محرم کے دیکھنے کا بھی گناہ ہے ناچ گانے اور گانے کا بے حد استعمال بھی گناہ ہے
مرد اور خواتین مشترکہ طور پر میوزک ویڈیو بناتے ہیں یہ وقت اور بے معنی سرگرمیوں کا ذریعہ ہے اس میں ہر چیز کا مذاق اڑایا جاتا ہے ان ویڈیوز میں مذہب اور مذہبی علماء کا مذاق اڑاتے ہیں بلکہ تقریبا نوجوان اور یہاں تک کہ بوڑھے لوگ پیسہ کمانے کی لالچ میں ہر طرح کے کام کرتے ہیں جو کوئی قابل احترام اور سمجھدار شخص نہیں کرتا . اس ایپ کا استعمال کنندہ لازمی طور پر ان گناہوں کا شکار ہوجائے گااور ان سے بچنا تقریباً ناممکن ہے لہذا اس کا استعمال جائز نہیں اس اطلاع کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے مزید کسی بھی ٹک ٹاک ویڈیو شیئرنگ سے بالکل پرہیز کرنا چاہیے

ہم جنس پرستی کی تشہیر:
حال ہی میں ٹک ٹاک کے آفیشل پیج سے ہم جنس پرستی کی تشہیر کی گئی ہے،عورت کے عورت سے اور مرد کے مرد سے جنسی روابط کی اجازت نہ تو ہمارا مذہب دیتا اور نہ ہی معاشرہ اور نہ ہی میڈیکل سائنس.یہ سب بیرونی شیطانی طاقتوں کا ایجنڈہ ہے

اگر کسی قوم کو شکست دینی ہو تو اس میں بے حیائی اور عریانی پھیلادو، صلاح الدین ایوبی

مزید پڈرھیں

بچوں کی پرورش میں غفلت نہ کریں

Facebook Comments
50% LikesVS
50% Dislikes