بچوں کی تربیت کیسے کریں،



“تم اپنے بچوں کے قریب رہا کرو، ان سے مشورے کیا کرو، تبادلۂ خیال کیا کرو، ان کے دل جیت لو قبل اس کے کہ تم انہیں ہمیشہ کیلئے کھو دو!”

والدین کی سب سے اوّل اور بڑی ذمےداری بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت ہوتی ہے۔ بچپن اور لڑکپن کا زمانہ بےشعوری و بےخیالی کا دور ہوتا ہے۔ اس وقت بچے بڑوں کے رحم و کرم کے محتاج ہوتے ہیں۔ بچے اُنہی کو اپنا محسن سمجھتے ہیں جو انہیں اپنے قریب رکھتے ہیں، ان سے پیار کرتے ہیں۔ بہترین تربیت جو قربت و انسیت سے ممکن ہے، ڈانٹ ڈپٹ اور مار دھاڑ سے ہر گز ویسی ممکن نہیں۔

سیرت النبیﷺ میں بچوں کے ساتھ آپؐ کے حسن سلوک کا جائزہ لیں تو آپؐ بہترین مربی اور بچوں پر رحم کرنے والے نظر آئیں گے۔ آپﷺ نے بچوں کے ساتھ نرمی، محبت، عاطفت اور ملاطفت کا درس نہ صرف اپنی تعلیمات ہی کے ذریعہ دیا، بلکہ اپنے عمل سے بھی اس کا ثبوت پیش فرمایا۔ آپﷺ نے بچوں کے بچپنے کا ہر لحاظ سے خیال رکھا؛ اپنی تمام تر رفعت شان کے باوجود ان کے ساتھ کھیلے بھی اور کبھی ان پر سختی نہیں فرمائی۔ اپنے پیارے نواسوںؓ سے آپﷺ کی محبت و شفقت کے کئی واقعات ہم سنتے پڑھتے رہتے ہیں کہ کیسے عین نماز کی حالت میں بھی لاڈ سے آپؐ پر سوار ہوجاتے تھے اور آپؐ ناراض تو کیا ہوتے، انؓ کے لیے سجدے کو طویل فرما لیتے۔

ایک بار آپؐ #سیدناحسنؓ کو چوم رہے تھے، ایک دیہاتی نے اعتراض کرتے ہوئے گویا حیرت کا اظہار کیا؛ تو آپؐ نے فرمایا: “اگر الله نے تیرے دل سے رحمت کو نکال دیا تو میں کیا کرسکتا ہوں؟”

مسلمان تو مسلمان، حضورﷺ نے تو کفار کے بچوں کے ساتھ بھی نرمی کی تلقین فرمائی۔ ایک یہودی کا لڑکا آپؐ کی خدمت میں آیا کرتا تھا، وہ ایک دفعہ بیمار ہوگیا۔ آپؐ نے ازخود تشریف لے جا کر اس کی عیادت فرمائی۔ آپؐ اس بچے کے سرہانے بیٹھے پھر اس بچے سے فرمایا: “اسلام قبول کرلو”۔
اس بچے نے اپنے والد پر نظر ڈالی، والد نے کہا: ابوالقاسم(ﷺ) کی اطاعت کرو۔
لہٰذا وہ بچہ مسلمان ہوگیا۔ آپﷺ یہ کہتے ہوئے تشریف لے گئے “تمام تعریفیں اسی الله کیلئے ہیں جس نے اس کو آگ سے بچالیا”۔

آج اس اسوۂ حسنہ کی روشنی میں ہم اپنے سلوک کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ کفار اور غیر کے بچے تو الگ،
ہم اپنے بچوں، اپنے خون کے ساتھ کیسا بیگانے کا سا سلوک کرتے ہیں۔ باپ کی درشت مزاجی کی وجہ سے بچہ پڑوسی انکل کے زیادہ قریب اور باپ سے دور ہوتا ہے۔ بات بات پہ مارنا، چِلَّانا، برابھلا کہنا بچوں کو نہ صرف ڈھیٹ بنا دیتا ہے، بلکہ ان کو ماں باپ سے دور بھی کر دیتا ہے۔ پھر ہوتا یہ ہے کہ بچے اس جذباتی خلاء کو باہر والوں سے پُر کرنے کی کوشش کرتے ہیں؛ باہر پھرتے سفاک درندے ایسے ہی معصوموں کا شکار کرنے گھات لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ سو وہ انہیں جھوٹی محبت کے جال میں پھانس کر ان کا جذباتی و جنسی استحصال تک کر بیٹھتے ہیں۔

بچوں کی پرورش میں غفلت نہ کریں

گھر میں خود بچے سے متعلق اُمور میں بھی اس سے کوئی مشورہ نہیں ہوتا، نہ اس سے رائے لی جاتی ہے اور نہ اس کی پسند ناپسند کا خیال رکھا جاتا ہے۔ ہر وقت، ہر بات میں بس اپنی مرضی چلائی بلکہ باقاعدہ ٹھونسی جاتی ہے۔ آہستہ آہستہ والدین اور بچوں کے درمیان ایک ایسی اجنبیت کی دیوار کھڑی ہونے لگتی ہے کہ پھر بچہ کسی جذباتی کشمکش کا شکار ہو جائے، یا بچے کے ساتھ کچھ غلط ہونے لگے تو وہ چاہتے ہوئے بھی اپنی بات والدین سے شیئر نہیں کر پاتا۔ اور یوں یہ صورتحال کبھی خدانخواستہ ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن جاتی ہے۔

یاد رکھئے! انگلی پکڑ کر چلانے والے ہاتھ جب ہاتھ چھوڑ دیں تو پھر جانے کون کون انگلیاں پکڑتا ہے اور کس کس سمت لے جاتا ہے۔ اپنے احساسات کو جھنجھوڑیئے، اپنی غفلت کو دور کیجئے، مستقبل کے ان ہونہار نونہالوں کو اپنے سے قریب کیجئے، ان سے مشورے کیجئے، انہیں اہمیت کا احساس دلائیے، گاہے بگاہے ان کے ساتھ تبادلہ خیال کیا کیجئے اور ان کے دل جیت لیجئے، قبل اسکے کہ انہیں ہمیشہ کیلئے کھو دیا جائے۔

❖ بچوں کی تربیت کیلئے ایک اہم بات ❖

بچوں کا تعلق علماءکرام سے مضبوط کرنے کی کوشش کریں، علماء سے تعلق مضبوط کرنا ایسی چیز ہے کہ حکیم لقمان نے بھی اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

“اے بیٹے! علماء کی مجالس اختیار کرو اور علماء کے سامنے زانوئے تلمذتہہ کرو۔ اس سے الله تعالٰی دلوں کو علم و حکمت سے ایسے زندہ کردیتے ہیں جیسے بنجر زمین کو بارش کے پانی سے آباد کر دیتے ہیں”۔

Facebook Comments
50% LikesVS
50% Dislikes