افغانستان میں نیٹو مشن کے اختتام کا اعلان، ترکی نے افغانستان میں رہنے کی پیشکش کردی ،طالبان کا صاف انکار



یہ اعلان نیٹو سیکرٹری جنرل یین اسٹولٹنبرگ نے پیر کو نیٹو سربراہی اجلاس شروع ہونے سے قبل اپنے افتتاحی کلمات کے بعد ایک سوال کے جواب میں کیا۔

اطلاعات کے مطابق اسٹولٹنبرگ نے کہا کہ ہم افغانستان میں اپنا فوجی مشن ختم کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعوا کیا کہ ہم افغانستان میں مستقل رہنے کے لیے نہیں آئے تھے۔

اُدھر ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکہ اور اتحادیوں کے انخلا کے بعد ترکی وہ واحد قابل بھروسہ نیٹو کا رکن ملک ہے جو وہاں موجود رہے گا۔

انہوں نے دعوا کیا کہ امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد صرف ترکی ہی وہ ملک ہے جو کابل ائرپورٹ کی حفاظت اور افغانستان میں استحکام کو بحال رکھ سکتا ہے۔

طالبان پہلے ہی متنبہ کرچکے ہيں کہ افغانستان کی سرزمین پر کسی بھی غیر ملکی فوج کی موجودگی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ افغان عوام کی سیکورٹی کے بہانے نیٹو افواج کی موجودگی کے دوران لاکھوں افغان شہری اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں، جن میں بڑی تعداد امریکی اور نیٹو فورسز کے براہ راست حملوں کی بھینٹ چڑھی ہے۔

Facebook Comments
50% LikesVS
50% Dislikes