یومیہ تنخواہ دس ہزار، گھر ، میڈیکل ، گاڑی بجلی گیس ٹیلیفون سب فری



آج کل کے اس مہنگائی کے دور میں اپنا کاروبار شروع کرنایا احسن طریقے سے چلانا اور دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے اس نفسا نفسی کے عالم میں زیادہ تر والدین اپنے بچوں کو کاروبار کی بجائے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اچھی نوکری اور خاص کر سرکاری نوکری کی طرف راغب کر رہے ہیں اور اگر کوئی بچہ بضد کہہ دے کہ ابا جی میں نے جاب نہیں اپنا کاروبار کرنا ہے تو اس کو سو طرح کی باتیں سننے کو ملتی ہیں اور ڈی موٹیویٹ گھر سے ہی کر دیا جاتا ہے، مثال کے طور پر تمہارے خاندان میں سب ملازمت کرتے ہیں، تم بھی ملازمت کرو گے کم سے کم لگی بندھی مہینہ وار تنخواہ تو آئے گی، کاروبار میں پیسہ کہاں سے لگاؤ گے ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں، ڈوبا دو گے پیسے، تجربہ نہیں ہے، اس ملک میں کاروبار صرف بڑے لوگوں کے لئے ہے، اگر دو مہینہ کاروبار نہ چلا تو گھر کا چولہا کیسے چلے گا،خیر یہ کہ بچہ کاروبار کا خیال ہی دل سے نکال دیتا ہے اور گھر والوں کی مان کر انتھک محنت سے اپنی اعلٰی تعلیم مکمل کر لے (جوکہ آج کل مہنگے سمسٹر کی وجہ سے مشکل ہو تی جا رہی ہے) اور کسی سرکاری محکمہ میں نوکری حاصل کر لے تو گھر والوں کی وہاں تک مٹھائیں جاتیں جہاں تک اس کی سوچ بھی نہیں جاتی. اور ساری عمر اوسط 15-30 ہزار مہینہ تنخواہ میں گزار دیتا ہے، جو کہ ایک سو دو مہینہ ملتی نہیں اکثر نجی کمپنیاں 2 ماہ کی تنخوہ نیچے رکھ کےملازمیں چلاتیں ہیں،اور سرکاری تنخواہ وقت پر مل بھی جائے تو آنے سے پہلے گھر کا راشن، بچوں کی فیس، گھر کا کرایہ، عزیز کی شادی اور دیگر اخراجات میں ختم ہو جاتی ہےباقی مہینہ اللہ توکل اور یا نصیب میں گزارنا پڑتا ہے. بیشتر والدین حالات کی کشیدگی اور تنگ دستی کے باعث بچوں کو ہنر سکھانے کی غرض سے ورکشاپ ،درزی،فرنیچر یا مزدوری میں ڈال دیتے ہیں جوکہ چھوٹو سے استاد بننے کے سفر تک سخت تکلیفیں اور حالات کی ٹھوکریں کھا کھا کر کسی نہ کسی مقام پر پہنچ ہی جاتے ہیں اور اپنی زندگی کی گاڑی کو دھکا لگانے کے قابل ہو جاتے ہیں،

معزز قارین کرام! اپ سوچ رہے ہوں گے کہ ان حالات میں ایسی جاب جو کہ دس ہزار یومیہ ، فری میڈیکل ، فری ایر ٹکٹ، فری پیٹرول ، گاڑیاں ، گھر اور اس کی بجلی گیس سب فری ہو گی ،اک دیوانے کا خواب ہے، جناب ایسا ممکن ہے، بلکہ ہو رہا ہے، اور جو لوگ یہ جاب کرہ رہے ہیں ان کو ہم نے ہی چنا ہے ہم نے اس جاب کے لئے پرفیکٹ سمجھا ہے، ہم نے ہی ان کو اس نوکری کے اہل سمجھاہے، اس جاب میں کچھ حصہ باس یعنی صاحب کا بھی ہوتا ہے باس کا کام صرف امیدوار کی حتمی فہرست تیار کرنے سے لے کر سلیکٹ ہونے تک نہیں ہوتا بلکہ کام سکھانا اور مشکل حلات سے نکالنا بھی ہوتا ہے، اور ساتھ ساتھ ان والدین جنہوں نے اپنے بچوں پر اچھی خاصی انویسٹمنٹ کی ہوتی ہے ان کو سو گنا سود سمیت واپس کرنا اور یقین دہانی کروانا کے اگر ان کے بچوں کی نوکری چلی بھی جائے،یا نکال دیا جائےیا پھر وہ اس نوکری کو خود ہی چھوڑ دے تو ان کو بڑھاپے میں کوئی پریشانی نہ ہو.

اس ملازمت میں آپ کے کام صرف اور صرف مقدس دفتر میں بیٹھ کر گالیاں دینا ہوگا، ایک دوسروں کو بوتلوں اور ان کتابوں اور کاپیوں سے مارنا ہوگا جس کی شروعات اللہ کے نام سے ہوگی، اور یہ سب اس جگہ بیٹھ کر کرنا جس کی چھت اور درو دیوار پر آیت اور اللہ کے نام لکھیں ہوں گے، اور یہ گالیاں وہاں دینی ہوں گی جہاں ہماری ماں بہنیں اور بیٹیاں موجود ہوں گی، اک دوسر ے کے گریبان چاک کرنے ہیں پوری دنیا کےسامنے اپنی پارلیمنٹ اور جمہوریت کی تذلیل کرنی ہو گی، اپنے سنئیر سے شابا ش کی خاطر یہ سب کچھ کرنا ہوگا ، اور شام کو کیمرہ آف ہوتے ہیں ، کوہسار مارکیٹ، بڑے ہوٹلوں یا پارلیمنٹ لاجز میں بغل گیر ہونا ہے،

محترم قارئین، چند دن پہلے ہماری قومی اسمبلی میں جو کچھ تماشہ ہوا اور ہماری مقدس پارلیمنٹ کبڈی کا اکھاڑہ بنی رہی جس کی وجہ سے بحیثیٹ قوم ہمیں پوری دنیا میں شرمندگی اٹھانا پڑی ہے آپ کو معلوم ہونا چایئے کہ ایک سیشن پر کیا خرچہ آتا ہے اور ہم دس سے پندرہ ہزار فی کس یومیہ اس لئے دیتے ہیں کہ صرف ایون میں اکر ہاتھا پائی اور گالم گلوچ کریں، یہ قوم کے پیسے پر یہ سب کچھ کرنے کے لئے آئیں ہیں، جو مرعات ان کو ملتی ہیں یہ ان کے بدلے صر ف گالیاں اور ہلڑ بازی کرنا ہے.

یہ کام صرف قومی اسمبلی میں نہیں بلکہ باقی صوبائی اسمبلیوں کا بھی ہے، بلوچستان وزیر اعلیٰ کو پانچ لاکھ پچاس ہزارمہینہ، جبکہ دوسرے وزراء تین تین لاکھ ماہانہ ہے، اور تمام وزرا کے گھروں کی بجلی اور گیس کے بل حکومت ادا کرتی ہے،ماہانہ تین لاکھ کے علاوہ چار ہزار ڈیلی الاؤنس اور سرکاری امور کے لئے سفری اخرجات بھی حکومت پورا کرتی ہے ، اس کے علاوہ اضافی پانچ لاکھ روپے سالانہ بھی حکومت ادا کرتی جو کہ آپ کی اور ہماری جیب سے جاتاہے، اور ساتھ میں دو گاڑیاں بھی دیتی ہےایک گاڑی جس کا جتنا استعمال کریں کوئی حد نہیں جبکہ دوسری گاڑی 250 لیٹر پیٹرول دیا جائے گا، یہ تو وہ مرعات ہیں جو کہ گورنمنٹ دے رہی اس کے علاوہ کی کمائی آپ کے سامنے ہے، اور صوبہ بلوچستان کا حال بھی آپ کے سامنے ہے. دوسری جانب مشیروں اور معاون خصوصی کو کل ملا کر چار لاکھ 48 ہزار تنخواہ کی مد میں ادا کئے جاتے ہیں اور سرکاری گھر نہ ہونے کی صورت میں‌ایک لاکھ تین ہزار الگ سے ملتے ہیں.

ان لوگوں نے قانون سازی کرنی ہے ملک چلانا ہے، غریب کو روٹی ، دینی ہے ، نوکری دینی ہے ، گھر دینا ہے ، جبکہ یہ بجٹ‌میں تماشے لگا رہےہیں. ایک دو ویڈیوز جو عوام کے سامنے آئی ہیں ان میں جو صاحب غلیظ ماں‌بہن کی گالیاں نکال رہے ہیں وہ ملک کے سب سے پڑھے لکھے حلقے اسلام آباد سے تعلق رکھتے ہیں مجھے پوری امید ہے وہ اپنے گھر میں بھی ایسی ہی غلیظ گالیا ں دیتے ہوں گے،جو کہ انہوں نے ایوان میں بیٹھی خواتین کے سامنے دی، ان کی بہن ، بیٹی اور ماں بھی ایسے ہی سنتی ہوں گی جس طرح باقی خواتین نے سنی ہیں، کیا ہم نے اس لئے ان کوووٹ دیا ہے کیا اس دن کے لئے یہ حکومت میں آئے تھے، مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی نے فرمایا ہے گالی دینا پنجاب کا کلچر ہے ، جناب پنجاب نہیں آپ کا کلچر ہوگا ، آپ کے گھر کا ماحول ہو وہ الگ بات ہے،لیکن پنجاب اور دیگر صوبوں میں گالی چند لچے اور اوباش دیتے ہوں گے لیکن ایک پڑھا لکھا اور سلجھا ہوا شخص نہیں دیتا ، ہمارے خاندانوں میں بچپن ہی سے سکھائے جاتا ہے گالی دینا گناہ ہے اور ایک بچھو قبر میں پیدا ہوتا یا ماں کہتی ہے میں منہ میں مرچی ڈال دوں گی، شائد آپ کے گھر والوں نہ ہی زبان میں مرچی ڈالی اور نہ ہی قبر کے بچو سے ڈرا کر تربیت دی.

اک بار بھٹو صاحب تقریر کر رہے تھے اور ان کے منہ سے گالی نکل گئی جیسے ہی خیال آیا تو فورا کہا اس کو کاٹ دو ،کاٹ دو اس کو، کیا کروں یہ لوگ کام نہیں کرتے اس لئے غصہ آتا ہے، لیکن اس کے بعد پپلز پارٹی دو سے تین سال اس کی صفائیں پیش کرتی رہی.

  .اگر تو اتنی مرعات کے بعد صرف گالی دینا ہلڑبازی کرنا ہی کام ہے تو اس قوم اور ملک کو اللہ کے حوالے کر کہ ان کو اسمبلیوں سے نکال دینا چاہیئے

مزید پڑھیں:بچوں کی پرورش میں غفلت نہ کریں

Facebook Comments
50% LikesVS
50% Dislikes