سندھی علیحدگی پسندوں کی کراچی پر یلغار پیپلز پارٹی و علیحدگی پسندوں کا گڑھ جوڑ ہے



گزشتہ روز سندھی علیحدگی پسندوں نے کراچی پر یلغار کر کے کھلے عام سڑکوں پو پاکستان توڑنے، پاک فوج کے خلاف نفرت انگیز نعرے مارے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کل ہی چیف جسٹس اف پاکستان نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ صوبہ سندھ پاکستان سے کیا علیحدہ ریاست ہے۔۔۔۔،۔۔۔ سندھی علیحدگی پسندوں کا بحریہ ٹاوں میں دہشت گردی کرنے پر چیف جسٹس صاحب نے کہا کہ سندھ حکومت اس حملے کے وقت کیا سوئی ہوئی تھی، سیکنڑوں میل دور سے دہشت گرد آئے اور حملہ آور ہوئے، اس سے قبل بارہا سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو بدعنوان ترین حکومت قرار دیا ہے، سندھ ہائی کورٹ بیسیوں مرتبہ سندھ حکومت کی سرزنش کر چکی ہے، نیب میں مکمل ثبوتوں کے ساتھ پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کے خلاف بد عنوانیوں کیسز موجود ہیں۔۔۔۔ گزشتہ 13 سالوں سے سندھ حکومت کے غیر آئینی و غیر قانونی اقدامات کے لاتعداد ثبوت موجود ہیں۔۔۔ حالیہ دنوں میں سندھ ہائی کورٹ کی طرف سے سندھ پبلک سروس کمیشن کے چیرمین و ارکان کی گرفتاری کا حکم نامہ جاری کرنے کے ساتھ سندھ پبلک سروس کمیشن کو بند کر دیا گیا ہے۔۔۔۔کراچی میں رینجرز ہیڈ کوارٹر پر سندھی علیحدگی پسندوں نے دھرنا دیے کر اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔۔۔۔۔ سندھ بھر میں کھلے عام پاکستان توڑنے اور سندھو دیش بنانے کے نعرے مارے جارہے ہیں، شہر شہر مظاہرے کئے جارہے ہیں، آج سندھی علیحدگی پسندوں کی دیدہ دلیری نے تو ہر محب الوطن پاکستانی کو فکر مند کر دیا ہے،۔

شہری سندھ میں رہائش پزیر ہر محب الوطن شخص یہ سب دیکھ رہا ہے، ریاست و قانون کا دہرا معیار عوام کی نظروں کے سامنے ہے، آج کا سندھی علیحدگی پسند کل کے مشرقی پاکستان میں مغربی بنگال سے آئے ہوئے انڈین ایجنٹ کی طرح کا کردار ادا کر رہے ہیں، مشرقی پاکستان میں جب نفرتوں کے بیج بوئے جارہے تھے تو کئی محب الوطن پاکستانی حلقوں نے حکومت پاکستان اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو بر وقت آگاہ کرتے رہے لیکن بدقسمتی کہیں یا لاپروائی یا اقتدار و طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا پاکستانی حکمرانوں کے کان پر جوں نہیں رینگی۔ اور جب ملک گردن تک دلدل میں دھنس گیا تو ہوش آیا لیکن جب تک دیر ہوچکی تھی۔۔۔ اور یوں ہم اپنا ایک بازو کٹا چکے تھے۔

ہماری محب الوطن مقتدر قوتیں اور وفاق اگر اسی بے خوابی میں رہے تو خدانخواستہ میرے منہ میں خاک کہیں ہمیں ایک اور سقوط ڈھاکہ سندھو دیش کی شکل میں دیکھنے کو نہ مل جائے، اگر ہم مشرقی پاکستان اور آج کے سندھ کا موازنہ کریں تو ہر محب الوطن پاکستانی کی فکر و پریشانی بجا لگے گی، یہ بات اب کوئی سیکرٹ نہیں رہی ہے کہ سندھ و بلوچستان میں ہمارے ازلی دشمن کے سلیپر سیل موجود پیں، گلبوشن یادو نے کئی خفیہ منصوبوں سے پردہ اٹھا دیا ہے، سندھ و بلوچستان میں انڈیا کی مداخلت کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں، اور اٹھارویں ترمیم کے بعد سندھ عملآ ایک خودمختار ریاست میں تبدیل ہوچکا ہے، دفاع، کرنسی کے علاوہ صوبہ سندھ فیڈریشن کی کوئی بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے،

گزشتہ دو دن قبل بلاول بھٹو نے صاف الفاظ میں ریاست کو دھمکی دی ہے اور سندھو دیش کے قیام کو لے کر ریاست و وفاق کو واضع اشارہ دیا ہے،۔۔۔ جس کی وضاحت آج وزیر اعلی سندھ نے دی ہے، لیکن وزیراعلٰی سندھ نے بلاول بھٹو کی بات کی تردید نہیں کی بلکہ مزید سخت جملوں سے تصدیق کی،۔۔۔۔ حالیہ دنوں میں سندھی علیحدگی پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں، سندھ حکومت کی مسلسل وفاق کو دھمکیاں، سندھ کے سرکاری اہلکاروں کی علیحدگی پسندوں کی ریلیوں میں شرکت، لوئر کورٹ سے دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ملزمان کا پہلی پیشی پر باعزت بری ہوجانا، علیحدگی پسندوں کو عدالتوں میں پروٹوکول دینا، کھلے عام کراچی کی سڑکوں پر دندناتے ہوئے پاکستان اور پاک فوج کے خلاف نعرے مارنا، یہ سب عام ادمی دیکھ رہا ہے تو ہمارے ریاستی اداروں کو کیا نظر نہیں آرہا ہے،

مشرقی پاکستان میں جب علیحدگی کی تحریک شروع ہوئی اور انڈین بنگال سے جھتے کے جھتے مشرقی پاکستان میں آکر پاکستان اور فوج کے خلاف عوامی ذہن بنارہے تھے، تو مشرقی و مغربی پاکستان کے باخبر حلقوں نے ہمارے حکمرانوں کو خبردار کرنا شروع کردیا تھا، اور پھر وہ وقت بھی آگیا کہ ڈھاکہ اور چٹاگانگ کی سڑکوں پر پاکستان توڑنے اور فوج کے خلاف اسی طرح نفرت انگیز نعرے مارے جانے لگے جیسے آج کراچی میں لوگوں کو دیکھنے کو ملا، لیکن ہماری اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں نے شورش اور چند سو لوگوں کا فتنہ قرار دیا، لیکن راست اقدامات نہیں کیے، اور یوں آہستہ آہستہ علیحدگی پسند مضبوط ہوتے چلے گئے، اور پھر بیرونی طاقتوں نے درپردہ مدد کرنے کے ساتھ علیحدگی میں بھرپور ساتھ دینے کے وعدے کئے اور پھر وقت نے ثابت کیا کہ بیرونی قوتوں نے مشرقی پاکستان کو بنگلادیش بننے میں مدد فراہم کی،

اگر ہم سقوط ڈھاکہ کے پس منظر، حالات و واقعات اور علیحدگی کی تحریک کا موازنہ کریں تو آج سندھ میں چلنے والی علیحدگی کی تحریک میں بہت مماثلت نظر آئے گی، بلکہ مشرقی پاکستان سے زیادہ حالات سندھ میں ان ملک دشمنوں کے لیے موافق ہیں۔۔۔۔۔۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی مکمل اختیارات کے ساتھ گزشتہ 13 سال سے اقتدار پر قابض ہے، اور سندھی علیحدگی پسند تمام گروپ باقاعدہ طور پر پیپلز پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں، اور بظاہر مختلف ناموں سے سندھ میں موجود علیحدگی پسند پیپلز پارٹی کا ہی حصہ ہیں، صوبائی خودمختاری کی آڑ میں پیپلز پارٹی نے پورے سندھ کے نام نہاد قوم پرست جو دراصل سندھو دیش کے داعی ہیں، اب اپنی چھتری تلے جمع کر چکی ہیں، اگر غور کیا جائے تو سینکڑوں میل کا سفر بلا روک ٹوک کر کے بحریہ ٹاؤن آنا اور دہشت گردانہ حملہ کرنا، اور علامتی گرفتارشدگان کو دوسرے دن لوئر کورٹس سے رہا کر دینا اور چار دن بعد دندناتے ہوئے کراچی کی سڑکوں پر پاکستان توڑنے اور سندھو دیش کے نعرے مارنا اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ اصل میں یہ تحریک پیپلز پارٹی ہی چلا رہی ہے۔۔۔۔۔۔ ہماری مقتدر قوتیں کیا سندھ میں چند ماہ قبل منظم پولیس بغاوت کو بھول گئیں ہیں۔۔۔۔۔ کیا سندھ حکومت نے نیب کو جعلی ڈومیسائل پر انکوائری کرنے سے زبردستی نہیں روک دیا ہے۔۔۔۔کہ نیب اپنا لیٹر لینے پر مجبور ہوگیا۔۔

صوبہ بلوچستان کی صورتحال ہمارے سامنے ہے، اب سندھ میں پیپلز پارٹی یہ کھیل کھیل رہی ہے، تو پاکستان کی پوری ساحلی پٹی انتہائی غیر محفوظ ہوچکی ہے، پاکستان دشمن بیرونی قوتیں تاک لگا کر بیٹھی ہیں کہ کب اس طرح کے حالات پیدا ہوں کہ مداخلت کا جواز بنے، یا سندھ کی کوئی سیاسی طاقت انسانی حقوق کی بنیاد پر دنیا کو آواز دیے۔۔۔۔۔ اس طرح کی صورتحال بنانے کی طرف حالات لے جائے جارہے ہیں، کوئی بعید نہیں پیپلز پارٹی کا یہ سارا کھیل کسی ملک دشمن طاقتوں کی ایما پر کھیلا جارہا ہو، پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کے بلوچستان میں اثر و رسوخ سے انکار ممکن نہیں، جو ہم پچھلے سینٹ کے الیکشن میں دیکھ چکے ہیں، بلوچستان میں بااثر اور سیاسی طاقت رکھنے والے گروپس کی پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت کے ساتھ قرابت داریاں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔۔۔

ہماری اسٹیبلشمنٹ اور وفاق کو سنجیدگی سے حالات کا جائزہ لینا چاہئے کہ پچھلے کئی سالوں سے سندھ میں سیاسی طاقت کا توازن بالکل بگڑ چکا ہے۔۔۔ پیپلز پارٹی مخالف سیاسی طاقتیں مختلف وجوہات کی بنا پر وہ کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں جو وقت کی ضرورت ہے۔ پیپلز پارٹی مخالف سیاسی قوتوں میں سرفہرست ایم کیو ایم پاکستان ہے، دوسری طاقت جی ڈی اے کے اتحاد میں شامل جماعتیں ہیں۔۔۔۔۔ ایم کیو ایم گزشتہ 7 سال سے ریاستی عتاب میں ہونے کی وجہ سے مکمل فعال کردار ادا نہیں کر پا رہی ہے، ریاست کی جانب سے ایم کیو ایم پر غیر اعلانیہ پابندیاں، محدود سیاسی و تنظیمی سرگرمیوں کی اجازت اور دفاتر کی بندش نے اسے پیپلز پارٹی کے علیحدگی پسند عزائم میں رکاوٹ بننے سے روکے ہوئے ہے، دوسری طرف جی ڈی اے اتحاد بھی وہ فعال کردار ادا نہیں کر سکا، جس کی بڑی وجہ ان سب جماعتوں کا اندرون سندھ اور لیڈران کا زراعت سے وابسطہ ہونا ہے، کیونکہ پیپلز پارٹی ہر ہتھکنڈا اپنے مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کر رہی ہے،

اس صورتحال میں ہماری محب الوطن مقتدر قوتوں اور وفاق کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، ایسا نہ ہو کہ دیر ہوجائے، سندھ میں پیپلز پارٹی کے عزائم ان علیحدگی پسندوں کی بلا روک ٹوک کے سرگرمیاں زور وشور سے جاری رکھنا واضع کر رہے ہیں، سندھ میں طاقت کے توازن کے بگڑنے اور دوسری سیاسی جمہوری قوت ایم کیو ایم پر بے جا سختیوں سے حالات دن بدن بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔۔۔ وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کو ان گھمبیر حالات میں اپنی پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی، پیپلز پارٹی کے سندھ کارڈ کے خوف سے نکلنا ہوگا، اور ملک دشمن سرگرمیوں کو لگام دینے کے لیے انتظامی و سیاسی تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے، اور پیپلز پارتی مخالف سیاسی طاقت کو پابندیوں سے آزاد کرنا ہو گا۔ کیونکہ ریاست کی مداخلت پیپلز پارٹی کے لیے بیرونی راست کھولے گی جس کا اظہار بلاول بھٹو نے کیا ہے اس لیے سیاسی طور پر جواب دینے کے لیے شہری سندھ کی نمائندہ سیاسی قوت کو آزاد کرنا ہوگا۔۔۔۔

تحریر:فیاض قائم خانی

مزید پڑھیں:یومیہ تنخواہ دس ہزار، گھر ، میڈیکل ، گاڑی بجلی گیس ٹیلیفون سب فری

Facebook Comments
50% LikesVS
50% Dislikes