ڈومیسٹک ٹورازم /گھریلو سیاحت کوفروغ دے کر ہم اپنے ذرائع آمدن میں بہترین اضافہ کرسکتے ہیں.



تحریر: ملک خلیل الرحمن واسنی حاجی پورشریف

ضلع راجن پور علاقہ پچادھ کوہ سلیمان کے دامن میں پنجاب اور بلوچستان کے بارڈر کے درمیان اسلام آباد کے مری اور ڈی جی خان کے فورٹ منرو کی طرزپر قدرتی حسن ،

خوبصورتی اورٹھنڈک سے بھرپور، کئی تاریخوں اور ثقافتوں کی گزرگاہ کوہ ماڑی جسے ہر دور میں آپت دی کھاپت کی نذر کر کے نظرانداز کیاجاتا رہا

اور اب بھی وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کےفروری 2021 میں دورے کے باوجود صورتحال جوں کی توں ہے

کوئی خاص پیش رفت یا بڑی تبدیلی تاحال دیکھنے میں نہیں آئی وسائل اور آمدنی میں اضافے کا رونا رونے والی حکومت چاہے وہ وفاقی ہو یاصوبائی چاہے

تو تھوڑی سی توجہ محنت ، ایمانداری نیک نیتی اور خلوص نیت سے بہت کچھ کیا جاسکتا ہے

بے شک پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اور حکومتی اشتراک سے حکومتی وسائل اور آمدنی میں جہاں اضافہ کیاجاسکتا ہے وہیں وہاں کے احساس محرومی،احساس کمتری،غربت وبے روزگاری کاشکار اہل علاقہ کی زندگی اور انکی معاشی ترقی میں بہت بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے

کیونکہ یہ علاقہ ہم سب کا ہے چاہے وہ لغاری ،مزاری،دریشک،گورچانی سردار ہوں یا وہاں کے دیگر قبائل ترقی تو سب کی سانجھی ہے یا کسی ایک قبیلے یا کسی ایک فرد کو اسکا فاعدہ پہنچے گا……….؟

وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار جو ضلع راجن پور کو اپنا دوسرا گھر کہتے ہیں وزیر اعظم پاکستان عمران خان جو اپنی ہر تقریر میں ضلع راجن پور کی پسماندگی کا ذکر کرتے تھکتے نہیں

اگر اس طرف ذراسی توجہ دیں کوہ سلیمان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا دائرہ کار مزید وسیع کریں اور کوہ ماڑی اور یہاں کے عوام کی اجتماعی تعمیروترقی کے اجتماعی فلاح عامہ اور فلاح بہبود کے لئے کردار ادا کریں تو کوئی شک نہیں کہ یہ علاقہ بھی ترقی یافتہ شہروں کی صف میں ہوگا اور ڈومیسٹک ٹورازم / گھریلو

سیاحت کوبھی فروغ ملے گااور کم خرچ میں بہتر آمدنی کے ذرائع اور راہیں کھلیں گی.

کیونکہ قدرتی نظاروں،قدرتی آبشاروں،قدرتی جھیلوں ، پہاڑوں کی بلند وبالا چوٹیوں اور پرکیف مناظرکی یہاں کوئی کمی نہیں جبکہ دوسرے علاقوں اور غیر ممالک میں شاید یہ سب چیزیں مصنوعی طور پر تیار کیجاتی ہے.جو قدرت نے ہمیں مفت فراہم کی ہیں.

مزید پڑھیں:کبھی بہ حیلئہ مذہب کبھی بنام وطن

Facebook Comments
50% LikesVS
50% Dislikes