سعودی عرب اور اتحادی افواج نے ایندھن لے کے جانے والے بحری جہاز کو روک دیا



العہد کی رپورٹ کے مطابق یمن کی نیشنل آئل کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس جہاز کو اقوام متحدہ نے پرمیشن دیا تھا اور سعودی جارح اتحاد کی جانب سے ایندھن کے حامل اس بحری جہاز ( حافظ ) کو روکنے کا اقدام جس میں 23 ہزار66 ٹن ایندھن ہے عالمی قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے۔

سعودی، امریکی اتحاد اس قسم کے غیر قانونی اقدامات کے ذریعے یمن میں بھوک مری پھیلانے کے ساتھ ساتھ یمنی عوام پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کے لئے اس قسم کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔

سعودی اتحاد اب تک کئی بار یمنی عوام کے لئے طبی وسائل، غذائی اشیا، دوائیں اور تیل لے جا رہے بحری جہازوں کو روک کر انہیں اپنے اختیار میں لے چکا ہے۔

یاد رہے کہ یمن کوپچھلے چھے سالوں سے سعودی عرب اور اسکے اتحادیوں کے ساتھ جنگ کا سامنا ہے اور ساتھ ہی اتحادی ممالک اس ملک کا مکمل طور پر بری بحری اور فضائی محاصرہ بھی کئے ہوئے ہیں۔

یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے کئی بارخبردار کر چکے ہیں کہ یمن کو اس وقت شدیدانسانی المیہ کا سامنا ہے مگر اس کے باوجود سعودی اتحاد یمن پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی عملدارآمدکرہا ہے۔

مارچ دوہزار پندرہ سے جاری سعودی جارحیت اور براہ راست حملوں کے نتیجے میں اب تک تقریبا بیس ہزار یمنی شہید اور دسیوں ہزار زخمی ہو چکے ہیں جبکہ جنگ اور محاصرے کے باعث پیدا ہونے والی ابتر صورتحال اور انسانی المیہ کے باعث لاکھوں افراد اب تک اپنی جان گنوا چکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں اور بیماروں کی ہے۔

Facebook Comments
50% LikesVS
50% Dislikes