نظام لوہار

انگریز سلطنت سے ٹکرانے والے مرد َ مجاہد کی داستان ،



نظام لوہار ۔۔۔۔۔۔ دھرتی کی غیرت کا استعارہ
تحریر: ابو بکر صدیق

جسمانی غلامی کے علاؤہ بھی غلامی کی کئی علامتیں ہوتی ہیں۔ ان میں سے چند ایک یہ ہیں کہ غلام اقوام اپنی زبانوں پہ آقا کی زبان کو ترجیح دیتے ہیں۔ لباس میں بھی اپنی ثقافت کو آقا کی ثقافت سے کمتر سمجھا جاتا ہے اور علاقائی لباس میں حقارت جبکہ آقا کے لباس میں فخر کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ قومیت کا نشان کھیل ہوتے ہیں لیکن پولیٹیکل ماتحتی ختم ہونے کے باوجود غلام اقوام اپنے علاقائی کھیلوں میں ہتھک محسوس کریں اور آقا کے کھیل تماشوں کو اپنانے میں سٹیٹس اپ گریڈیشن کی فیلنگز آئیں تو سمجھ لیں قوم ابھی تک غلام ہے۔حتی کہ ثقافت کے دیگر اجزا جیسے کھانا پینا گانا بجا (موسیقی) خوشی غمی کے طور طریقوں میں بھی علاقیت پہ قابض اقوام کو برتر سمجھا جاتا ہے جو اس بات کا مظہر ہے کہ جسمانی آزادی حاصل ہونے کے باوجود غلامی کی زنجیروں میں تناؤ ابھی تک موجود ہے۔ غلام اقوام کے ذہنوں میں ایک اور بات جو ڈالی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے ہیروز کی فہرست کو مرتب کرتے وقت آقا سے وفاداری کو مدنظر رکھا جاتا ہے وہ لوگ جو غلامی کے خلاف مذاحمت کرتے رہیے ہوں انہیں غدار ڈاکو دیش دروہی جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے جس سے قومی غیرت اور حمیت کا جنازہ نکل جاتا ہے انکی جگہ پہ قابض اقوام کے ہمنواؤں کو بیٹھایا جاتا ہے جو انکی شان میں ہر وقت قصیدہ خواں رہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ یہی حال ہمارے آج کے ہیرو نظام لوہار المعروف نظام ڈاکو کا ہے۔

ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1857 کی جنگ آزادی کے بعد ہندوستان براہِ راست برطانیہ کی حکومت کی عملداری میں دے دیا ۔ انگریزوں نے ہندوستان پہ قبضہ جمانے کے لیے انتہائی ظالمانہ سلوک روا رکھا۔ بغاوت کی صورت میں سرے عام پھانسی یا گولیوں سے مارا جانا روز کا معمول تھا۔ دیہاتوں میں پولیس اور محمکہ مال کے افسروں کے ہاتھوں معمولی لگان اور ٹیکس کی آڑ میں روانہ لوگ ذلت اٹھاتے۔ لوگوں کو چوراہوں میں ننگا کر کے مارا جاتا تاکہ ان میں سے عزت نفس کو کچل کر ان کی سرشت میں برطانوی وفاداری کو بھرا جا سکے۔ یہ سب کچھ سہ لینے کے باوجود برطانوی حکومت کبھی خوشی بھری نگاہوں سے نہ دیکھتی۔ نظام لوہار بھی اسی رویے کا مشاہدہ روز اپنی آنکھوں سے کرتا اور خود ہی خود میں کڑتا رہتا۔ وہ 1835میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور حکومت میں لاہور اور امرتسر کے درمیان ترن تارن کے قصبہ میں پیدا ہوا۔ وہ پیشہ کے اعتبار سے لوہار تھا ۔ انگریزی اسلحہ میں کاربین کو بنانے کا ماہر تھا ۔ 1849 میں پنجاب سکھوں کی عملداری سے نکل کر انگریزوں کے قبضہ میں آ گیا۔ امرتسر اور دہلی کے درمیان انگریزوں پہ ہونے والے حملوں میں استعمال ہونے والے اسلحہ کی بابت انگریزوں کو شک ہوا کہ شاید وہ نظام کے ہاتھ کا بنا ہوا ہے انہوں نے نظام کو گرفتار کیا اور تشدد بھی کیا لیکن وہ نہ تو نظام سے کچھ اگلوا سکے اور نہ کچھ برآمد ہوا۔ انگریزوں نے نظام کو چھوڑ دیا جس کے بعد نظام نے نہ صرف ملکیت سنگھ اور جیت سنگھ کے ذریعے ببر اکالی دل میں شمولیت اختیار کر لی بلکہ ان کی تحریک کے لیے اسلحہ بھی بنانا شروع کر دیا۔

یہ موومنٹ اس اکالی موومنٹ کا ابتدائی پارٹ تھی جو بعد ازاں ہندو مہانتوں سے گردواروں کو واگزار کرانے کے لیے بیسویں صدی کے ابتداء میں سرگرم رہی۔ خاص کر 22 فروری 1921 کو گردوارہ جنمستھان ننکانہ صاحب واگزار کرواتے ہوئے کئی سو پر امن سکھوں نے ہندو مہانت رام نرائن جسے انگریز پشت پناہی حاصل تھی کے کرائے کے قاتلوں کے ہاتھوں شہادت کا جام پیا ۔ اس زمانے میں یہ پنجاب کے سکھ راج کے خاتمے کے خلاف اور پنجاب کے کسانوں پہ ہونے والے مظالم کے خلاف ایک مظبوط آواز تھی۔ نظام لوہار نے اسی تحریک کے پلیٹ فارم سے پنجاب چھوڑ جاؤ تحریک بھی شروع کی جس میں ماجھے (قصور) سے تعلق رکھنے والا اس کا دوست جبرو اور سوجھا سنگھ بھی شامل تھے۔ نظام کے گھر میں اسکی بوڑھی ماں اور جوان بہن کے علاؤہ اور کوئی نہ تھا۔ نظام بار بار انگریز کی شک کی سوئی کی زد میں آیا۔ پولیس نے نظام کی غیر موجودگی میں اس کے گھر پہ چھاپا مارا اور دوران تلاشی کئی ہتھیاروں کی برآمدگی کا اعلان کیا۔ پولیس پارٹی کی سربراہی کیپٹن کول کر رہا تھا جس نے نظام کی ماں پہ تشدد کیا اور اس کی بہن سے زیادتی کی۔ نظام کی ماں جسمانی اور ذہنی تشدد کی تاب نہ لا سکی اور مر گئی۔ نظام کو واقعہ کی خبر ہوئی تو اس نے فوری طور پہ اپنے دوست شفیع کے اپنی بہن کا نکاح کر کے اگلے ہی دن کیپٹن کول پہ دھاوا بول دیا جس سے وہ واصل جہنم ہو گیا۔ صرف یہیں نہیں بلکہ علاؤہ ایس پی امرتسر رونالڈو سمیت پانچ اور انگریز افسروں کو بھی گولی مار کر قتل کر دیا۔ نظام برٹش فورسز کے لیے ایک خوف کی علامت بن چکا تھا ۔وہ انگریز نواز لوگوں کو لوٹتا اور اپنی دولت غریبوں میں بانٹ دیتا لوگوں میں اسے ہیرو کا درجہ حاصل تھا یہاں تک کہ لوگوں نے اعلان کر رکھا تھا کہ جو نظام کی مخبری کرے گا اس کا گھر جلا دیا جائے گا۔ انگریز کے مخبر تک اس کے سائے کو نہ پا سکے۔ نظام نے ایک کوٹھی کو اپنا مور چہ بنا رکھا تھا جسے کیکراں والی کوٹھی کہا جاتا تھا وہیں سے ساری کاروائی کو مانیٹر کرتا تھا ۔ اس کی پنجاب چھوڑ جاؤ تحریک میں کئی نوجوانوں نے شرکت کی اور ایسی کاروائیوں میں شرکت کی جیسے ماجھے کے علاقے میں دو بھائی چھانگا اور مانگا جو انگریزی گاڑیوں سمیت بڑے بڑے انگریز وفاداروں کی تجوریوں پہ ہاتھ صاف کرتے انہیں غریبوں پہ لوٹا دیتے اور خود انگریز کے لگائے جنگل میں چھپ جاتے جنہیں آج چھانگا مانگا کے جنگل کہا جاتا ہے۔ یہ انہی دو بھائیوں کے ناموں سے ہی جنگل منسوب ہے۔ یہ جنگل انگریز نے لکڑی کے ایندھن پہ چلنے والی ریل میں استعمال ہونے والی لکڑی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے لگایا تھا۔ نظام کے نام پہ ہونے والی” لوٹ مار” کی زیادہ تر کاروائیوں میں چھانگا مانگا کا ہاتھ ہی ہوتا تھا۔

اختر حسین سندھو کے مطابق نظام لوہار وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک تحریک بنتا جا رہا تھا علاقے کے کئی نوجوان اور وہ لوگ جنہیں مختلف کاروائیوں میں نظام نے برطانوی قید سے آزاد کروایا تھا وہ اس کا دست و بازو بنتے جا رہے تھے۔ اس کے ساتھیوں میں نواب جٹو، ودھاوا سنگھ وہڑھوالیا ،جبرو،گھما مان ، لچھمن سنگھ، صوبھا سنگھ، چراغ ماچھی اور بھولا کمہار وغیرہ شامل تھے۔ نظام برٹش خزانہ لوٹتا، وہ شاہوکار جنھوں نے سود سے عام آدمی کا معاشی استحصال کر دیا تھا ان کی تجوریوں پہ ہاتھ صاف کرتا اسے غریبوں میں بانٹ دیتا۔ غریب کسانوں کے بچیوں کی شادی میں انکی معاونت کرتا جس سے عوام کے دلوں میں دھڑکن کی طرح نظام بس گیا تھا۔ کوئی پولیس اسٹیشن کوئی بھی جیل نظام کی دسترس سے باہر نہ تھی نظام نے مان سنگھ دیوا کو آزاد کروانے کے لیے قصور جیل کو توڑا۔بیکانیر کی ریاست کے مہاراجہ کی قید سے نہ صرف ساتھیوں کو جھڑوایا بلکہ ریاست کے خزانے کو بھی عوام میں بانٹ دیا۔ نظام لوہار رابن ہڈ کی حقیقی شکل تھا۔ یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ انگریزوں نے اپنے افسانوی کردار کو بھی اس قدر پرموٹ کیا کہ وہ اصلی محسوس ہونے لگا جب کہ ہم اپنے اصلی ہیروز کو بھی ڈاکو اور غدار کہہ کر پس پشت ڈال دیتے۔ یہ ذہنی غلامی کی بدترین قسم ہے بلکل ویسے ساڈا کتا، کتا تے تہاڈا کتا، ٹومی۔

نظام اور اس کے ساتھی انگریزوں پہ حملہ کرنے کے لیے میلوں اور بھیڑ والی جگہوں کا انتخاب کرتے۔ گوریلہ جنگ نے برٹش فورسز کی ناک میں دم کیے رکھا۔ نظام اور دیگر پنجابی مزاحمت کاروں کی کاروائیوں کی تعریف کارل مارکس نے بھی کی کہ ایک لمبے عرصے تک لاہور اور ملتان کے درمیان سامان کی آمدورفت معطل رہی یا اسے مشکلات کا سامنا رہا۔ وہ اسی وجہ سے کہ تب ان علاقوں میں رائے احمد یار خان کھرل اور نظام لوہار کے گروہ سر گرم عمل تھے ۔

مزید پڑھیں:دس منٹ سے دس گھنٹوں تک : ماڈل ٹاون

اقبال اسد کی کتاب پنجاب دے لجپال پتر کے مطابق نظام کے سر کا انعام انگریز سرکار نے دس ہزار روپے 100 ایکڑ زمین اور کچہری میں کرسی یعنی عزازی مجسٹریٹ کا اعلان کیا گیا۔ برٹش دور میں کئی جاگیر داروں کو آنریری مجسٹریٹ کا عہدہ عطا کیا گیا تھا۔ یہ سب حضرات انگریزی سرکار جلیلیہ کے لیے مخبر کے فرائض سر انجام دیتے رہے اور مادر وطن کو نوچ نوچ کھاتے رہے۔ 10 ہزار کی تب قیمت کیا تھی اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا کہ آج کا دس ہزار تب کے ایک روپے کے برابر تھا۔ اتنے بڑے انعام کے باوجود کسی نے نظام کی مخبری نہ کی یہ بات انگریزی سرکار کے لیے بہت فکر کی بات تھی۔ اس دوران نظام کے ساتھی سوجھے سنگھ کی ماں کی بیماری کا علم نظام کو ہوا جسے وہ اپنی ماں سمجھتا تھا۔تو وہ اس کی خبر گیری کیے بغیر نہ رہ سکا۔ سوجھے کی ماں نے نظام کو بتایا کہ سوجھا ماں کی خبر گیری میں غفلت برت رہا ہے۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ سوجھا ایک ماچھن کی زولفوں کا اسیر ہو چکا تھا۔ سینہ با سینہ روایت کے راوی غلام حسین بھٹی کے مطابق چھیا ماچھن انگریز سرکار کی پلاننگ کے تحت نظام کی گینگ سے اٹیچ ہوئی تھی۔ نظام نے سوجھے کو سخت سست کہا کیونکہ سوجھے کے اس رویے سے اس ماں تو تکلیف میں تھی ہی اس کے ساتھ تحریک کی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی تھی کیونکہ سوجھے کے ذمہ پولیس کی نقل و حرکت پہ نظر رکھنا تھا جو بہت متاثر ہو رہا تھا۔ سوجھے کی محبوبہ نے سوجھے کے کان بھرے اور نظام کی مخبری پہ راضی کر لیا۔

سوجھے کی مخبری پہ نظام مارا گیا 48 گھنٹوں تک تن ِتنہا پولیس کی گولیوں کا سامنا کیا۔ سوجھے کی ماں کو جب اس بات کا علم ہوا کہ نظام سوجھے کی مخبری پہ مارا گیا ہے تو اس نے تلوار کا وار کر کے اپنے بیٹے سوجھے سنگھ کو قتل کر دیا۔ سوجھا زمین پہ گر پڑا تو سوجھے کی ماں نے بہت بڑا جملہ بولا_ اس نے کہا: ” سوجھے تو مر رہا ہے جاتے ہوئے ایک اور دکھ اپنے ساتھ لیتا جا کہ تمہاری اس غداری کے باعث میں تمہں اپنے دودھ کی 32 دھاریں کبھی معاف نہیں کروں گی” یہ بات جبرو کو گواہ بنا کر کہی۔یقینا سوجھے ماں مائی میتاں بھی کسی طور کسی ہیرو سے کم نہیں لیکن تاریخ نے اس بہادر غیرت مند اور وطن پرست خاتون کو بھی فراموش کر دیا۔ ہیروز کو فراموش کرنا تو قومی سطح پہ اعزاز و اکرام سے ہو رہا ہے۔جس کی ایک جھلک قومی شاعر علامہ اقبال کے کلام میں ہیروز کی ترجیح ہے۔

برٹش گورنمنٹ کو جب علم ہوا کہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد نظام کے جنازے میں شرکت کرنا چاہتی ہے تو حکومت نے 2 روپے جنازہ پڑھنے پہ ٹیکس لگا دیا ۔ سرکاری چھپنے والے گزٹ کے مطابق جنازے کی مد میں انگریزی حکومت نے 35 ہزار روپے ٹیکس کی مد میں اکٹھے کیے ۔ یعنی 17 ہزار لوگوں نے نظام کے جانزے میں شرکت کر کے اپنے ہیرو کو اخراج عقیدت پیش کیا۔ 2 روپے آج کے 20 ہزار روپوں کے برابر تھے ۔ آج کوئی بھی بڑے سے بڑا سیاستدان یا مذہبی راہنما مر جائے تو اس کے جنازے پہ شرکت کے لیے 20 ہزار کا ٹکٹ خرید کر اتنے لوگ جمع نہ ہو گے۔ نظام کی اس حد تک بڑھی ہوئی مقبولیت کو کم کرنے لیے انگریز ہر حد تک گیا۔

قومی شاعر ا قبال کا پیمانہ خودی ہے جس کی بنیاد پر وہ مختلف مذاہب، اقوام اور جغرافیہ کے عظیم سپہ سالاروں کو ہیرو قرار دیتےہیں۔ اس مثال کے ساتھ اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو پڑھا جا سکتا ہے کہ پنجاب سے کتنے دانشور ، سپہ سالار، باغی سیاستدان اور مفکر اقبال کی فہرست میں جگہ بنا سکے۔یہ تعداد بہت کم نظر آتی ہے اقبال کا ہیرو افغان محمود غزنوی اور شہاب الدین غوری تو ہے، بار بار ان کا ذکر بھی کلام اقبال میں ملتا ہے، لیکن پنجابی سرزمین کے ہیروز دُلا بھٹی، نظام لوہار ، رائے احمد یار خان کھرل اور بھگت سنگھ کا ذکر نہیں ملتا۔ ہمیں شیکسپیئر کا ذکر ملتا ہے اور مارکس کے نام بھی نظمیں موجود ہیں، لینن کا بھی ذکر ہے۔ انہوں نے جلیانوالا باغ کے قاتل گورنر مائیکل اوڈوائر کی شان میں قصیدہ خوانی کی ، جار ج ہشتم کی راہوں میں پلکیں بچھائی ملکہ وکٹوریہ کی موت پہ اپنی ماں کی وفات سے بڑھ کر آنسو بہائے ۔ لیکن ان کے قلم نے پنجاب کی دھرتی کے کسی ایک آزادی کے متوالے کے لیے بھی جنبش نہیں ۔ پختون سرزمین کے خوشحال خان خٹک کو اقبال اپنا ہیرو مانتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں پنجاب کی سرزمین سے تعلق رکھنے والا بھی کوئی جنگجو چاہے وہ نظام لوہار ہی ہو ان کی شاعری میں جگہ نہیں بنا پاتا۔

بس غلامی کی علامتیں ابھی بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہیں ۔ اسی لیے 72 سالوں کے بعد منزل کوسوں دور ہیں کیوں کہ آزادی حاصل ہی نہیں ہوئی ۔ برطانیہ ابھی بھی ـایسٹ انڈیا کمپنی ـ کے ایجنٹس کے ذریعے نظام چلا رہی ہے ۔ اسی لیے نظام لوہار ہیرو نہیں ڈاکو ہے

مزید پڑھیں:قومی ہیرو ڈاکواور باغی،آج غدار ابن غدار صاحب اقتدار، ہمارے نصاب کے افغانی ہیرو ہی کیوں؟

Facebook Comments
50% LikesVS
50% Dislikes