بچوں کی سمجھداری کا تقاضا



آج کل بچے بڑے چلاک ھیں،بڑے تیز ھیں
یہ فقرہ آپ نے بہت جگہ سنا ھوگا۔
ھو سکتا ھے کہ آپ نے بھی ارشاد فرمایا ہو۔
بحر حال میں بھی کہتا رہا ہوں۔
بات یہ ھے کہ یہ کیسے ہوا؟
یقیننا نے دور کی وجہ سے۔
اور وجہ کیا بنی؟
موبائل،ٹی وی وغیرہ اور ان میں ڈرامے فلمیں وغیرہ۔
ایک پانچ سال کا بچہ چھ سال۔ کا ہونے تک پچاس سال کے ہزار انسان دیکھ چکا ہوتا ہے۔
اسی طرح پچیس تیس پینتیس چالیس اور سولہ 15 18 17 وغیرہ بھی اس میں کوئی شک نہیں کہ فلمساز اور ڈرامے والے یا یوں کہو کے اداکار یا اداکاریں بھی اپنا اصل وجود کھو دیتے ہیں۔
ان کی اصل شخصیت تبدیل ہو جاتی ہے ان کا مزاج اپنا نہیں رہتاتو کیسے ممکن ہے کہ اس پانچ چھ سال یا اس سے اوپر کے ایک بچے پر اس کا اثر نہ ہو ؟
دیکھیں کوئی بھلے ہی نہ مانے لیکن یہ بات دعوے کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ کچھ تبدیلیاں اسکرپٹ کو پورا کرنے کے بعد یا اس کے دوران اداکاروں میں ایسی آتی ہیں جنہیں وہ ساری زندگی تبدیل نہیں کر سکتے۔
بدنصیب تو وہ ہے جن کے لاشعور میں تبدیلیوں کا حوالہ ہو اور شخصیت پر لائیو براڈ کاسٹنگ ہو رہی ہو۔
مگر اس کے ہیڈ فون خراب ہو وہی بات ہے کہ لاشعور کا تعلق آگیا۔
بہرحال قابل فکر بات یہ ہے کہ وہ بچے جنہیں ہم یہ فقرہ کستے ہیں یقین جانیے فکرکیجئے انکی کیونکہ ان سے ان کی وہ بچپن کی معصومیت چھین رہی ہے۔لیکن بے شک اگر آپ نے انہیں دینی راستے پر لگا دیا ہے تو اس کے پاس عقل سلیم فہم سلیم اور قلب سلیم ہوگیا پھر تو کیا ہی بات ہے۔
ہاں یہ بات بھی بچوں کے لیے آزاد ہے لیکن بچوں کے تربیت کا بہترین یہی ہے تو اس لیے انہیں ابھی سے ماحول میں ضرور رکھنا چاہیے ۔
مختصر یہ کہ جس بچے کے پاس عقل سلیم فہم سلیم اور قلب سلیم ہو تو اس کی ذہانت خوشی کا باعث ہے۔
آپ یہ سوچ رہے ہونگے کہ اس عمر میں یہ سب کیسے کسی کو حاصل ہو سکتا ہے مگر غور کیجئے تو معلوم ہوگا اور ویسے بھی اللہ کے کرشموں سے کون ناواقف ہے۔
انسان کے ہاتھوں میں کوشش کا اختیار ہے اللہ کی مرضی پر راضی رہ تے ہوئے آگے بڑھے پھر دیکھیں اور جو ذہن ذہین کہلائے مگر اس کی وجہ ان تینوں پہلوؤں سے کافی دور ہو یعنی جدید دور کے گھر دینی تقاضوں پر مبنی ہوں تو رحم کھاؤ اس پر اور اس کے تربیت کرنے والوں پر کیونکہ عین ممکن ہے کہ دیکھا یا اندیکھا یادکھنے والا یا نہ دکھنے والا وبال آجائے۔

راشد سلطان
راشد سلطان

۔تحریر:  راشد سلطان

Facebook Comments
50% LikesVS
50% Dislikes